سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں سینیٹر مصدق ملک کی عوامی اہمیت کے معاملہ برائے پاکستان کا غلط نقشہ نشر کرنے کے حوالے سے سیکرٹری اطلاعات ونشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق معاملے کی دوسری انکوائری کرائی ہے جس کی رپورٹ تیار ہو گئی ہے تاہم وزیرا طلاعات و نشریات نے کہا کہ رپورٹ پہلے پی ٹی وی بورڈ میں پیش کی جائے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ معاملے کے حوالے سے مرحلہ وار سزائیں دینا مناسب نہیں ہے غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ ایم ڈی پی ٹی وی نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے پانچ لوگوں کو سزائیں دی تھیں دو کو فارغ کیا اور تین کو معطل کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ حیران کن بات ہے کہ پی ٹی وی نے متعلقہ محکمہ جس کی ویب سائٹ پر نقشہ ابھی بھی موجود ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کے ڈائریکٹر کے ساتھ رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا جس پر کمیٹی نے معاملہ ختم کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ایف بی آر کو طلب کر لیا ۔سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری نے کہا کہ پی ٹی وی نے ایک پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے ملازمین کی جانچ پڑتال کر کے ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اب بھی 58سال کے 200سے 250ملازمین نکال دیئے گئے جبکہ مزید لوگوں کو نکالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ ایک کمپنی ہائر کی گئی ہے جو ایک سال میں رپورٹ تیار کرے گی ادارے کی بہتری کیلئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

