اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکاری ٹی وی کے ایم ڈی اور چیئرمین کی تعیناتی کے معاملہ پر ٹی وی کے بورڈ کو اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا ہے اور کسی ملازم کو برطرف یا ریٹائر کرنے پر حکم امتناعی برقرار رکھتے ہوئے بورڈ کے قانونی ہونے سے متعلق جواب طلب کر لیا ہے، جمعرات جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی تو سرکاری ٹی وی بورڈ کی جانب سے سینئر وکیل کی عدم حاضری پر عدالت نےبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر اگر کوئی وکیل کراچی یا لاہور سے آ نہیں سکتا تو ویڈیو لنک کی سہولت موجود ہے،معاون وکیل نے کہا کہ بورڈ کے سینئر وکیل باجوہ لاہور سے نہیں آ سکے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے یہ اتنا سنجیدہ معاملہ ہے اور کسی کو کوئی پروا نہیں ، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چار پرائیویٹ ممبران کی تقرری بھی عدالت عالیہ میں چیلنج کر دی گئی ہے، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سرکاری ٹی وی کے چیئرمین ارشد خان اور ایم ڈی عامر منظور کی تعیناتی میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے ، پرائیویٹ بورڈ ممبرز راشد علی خان ، زبیر اے خالق ، فرمان اللہ جان اور علی بخاری کی تعیناتی بھی غیر قانونی ہوئی ، تقرری کرتے وقت سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

