ptv qaaseedago ban chuka hai 448

پی ٹی وی کا ذمہ داران کے خلاف کارروائی سے گریز۔۔

سرکاری ٹی وی کی تحقیقاتی کمیٹی کی تحقیقات اور واضع نتیجے کے باوجود وزارت اطلاعات و نشریات، پاکستان اور آزاد جمو ںو کشمیر کا غلط نقشہ نشر کرنے والے زمے دار افراد کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں،پاکستان ٹیلی وژن نے اپنے پروگرام نقتہ امتیاز میں 28 اکتوبر 2019 سے 5 جون 2020 اور6 جون 2020 کو غلط نقشہ نشرکیا جس کے بعد وزارت اطلاعات و نشریات نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی سربراہ شہیرہ شاہد تھیں اور مینیجنگ ڈاریکٹر عامر منظور،ڈپٹی ڈاریکٹر جنرل وزارت اطلاعات ونشریات عاصم خچی،اور عمران ایوب شامل تھے انکوائری کمیٹی نے تمام متعلقہ افراد کے بیانات لئیے ،جس کے بعد ڈاریکٹر کونٹینٹ اینڈ مارکیٹنگ ،چیف آف نیوز اینڈ کرنٹ افئیرز، کنٹرولرکرنٹ افیئرزپروڈیوسر پروگرام نقتہ امتیاز اور ڈپٹی کنٹرولر کرنٹ افیئرزکو زمے دار ٹھہرایا گیا تھا تاہم کمیٹی کی واضع رپورٹ کے بعد افسران کوئی بھی اقدام اٹھانےسے گریزاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

”پی ٹی وی کا ذمہ داران کے خلاف کارروائی سے گریز۔۔“ ایک تبصرہ

  1. کیا وزیرستان میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہے ؟
    (نثاراحمدمحسود)
    وزیرستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد یہ سوال ہر طرف زبان زد عام ہے کہ کیا وزیرستان میں پائیدار امن ممکن ہے ؟یا یہ ایک خواب ہی ہے ۔
    خراب امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ہر طرف اور ہر مجلس میں یہی سوال ایک دوسرے سے ہو رہا ہے ۔شعبہ صحافت سے ہلکا پھلکا واسطہ ہونے کے باعث بعض دوست و احباب اکثر یہی سوال مجھ سے بھی کر لیتے ہیں ۔میں اپنی کم علمی کے مطابق یہی جواب دیتا ہوں کہ وزیرستان میں ایک پائیدار امن بالکل ممکن ہے ۔لیکن کیسے؟
    اس کا جواب میں آپ لوگوں کے سامنے بھی رکھوں گا لیکن اس سے پہلے کچھ تمہیدی سوالات اور جوابات عرض کرنا چاہوں گا ۔
    سب سے پہلا سوال یہ اٹھتاہے کہ وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کیوں ہیں ؟
    اس کا سادہ سیدھا اور لمبی چوڑی تفصیل میں جائے بغیر جواب یہ ہے کہ وہاں کلعدم تحریک طالبان پاکستان اور پاک فوج کے درمیان جنگ جاری ہے جس کے اثرات علاقے کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں بھی رونما ہوتے رہتے ہیں ۔اس جنگ کو جیتنے کے لیے پاک فوج کی جانب سے پورے زوروقوت کا استعمال کیا گیا ۔پاک فوج کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے اور ہزاروں کی تعداد میں معذور ہوئے ۔اسی طرح عام مقامی افراد بھی اس جنگ کا ایندھن بنے اور سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان بھی عام مقامی عوام نے اٹھایااگرچہ ریاست پاکستان نے اتنی قربانیوں کے باوجود ان کو نظر انداز کیا ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے بجائے ان کے حقوق کو غصب کیا ۔لیکن ہر طرف سے اتنے بھاری نقصانات کے باوجود یہ جنگ آج بھی جاری ہے جس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور ملکی امن ایک بار پھر بگڑتی صورتحال اختیار کرتا جا رہاہے۔ کچھ لوگ اس سے یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ یہ جنگ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ہے اور شاید یہ ایک حقیقت ہی ہے۔
    اب یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ کیا اس جنگ کا اختتام بھی ممکن ہے یا نہیں ؟
    اس سوال کا جواب اہم ہے ۔میری نظر میں اس جنگ کا اختتام ممکن ہے اور اس ممکن کی طرف صرف واحد راستہ مذاکرات ہی کا ہے ۔میرے کچھ دوست میری اس بات سے بھی اختلاف کرتے ہیں وہ ایک مضبوط دلیل کے طور پر میری اس بات کو رد کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مذاکرات اگر اس جنگ کا واحد راستہ ہے تو یہ پہلے بھی کئی بار شروع ہو کر ناکام ہو چکے ہیں ۔میں اس بات کو درست قرار دے کر اس سے ایک نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہوں ۔یہ درست بات ہے کہ مذاکرات ہوئے لیکن یہ مذاکرات فوج اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان ہوئے اور بار بار ناکام بھی ہوئے (اس کی بہت وجوہات ہوسکتی جو میں اپنے اگلے کالم(پاک فوج اور ٹی ٹی پی کے درمیان مزاکرات ناکام کیوں ہوئے) میں آپ کے سامنے رکھونگا) جس سے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ فوج اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی ایک ناممکن عمل ہے۔اب یہاں ایک آخری سوال یہ اٹھتا ہے کہ جنگ تو تحریک طالبان پاکستان اور پاک فوج کے درمیان ہے مذاکرات بھی انہی دو فریقین کے درمیان ہونے چاہیے؟
    ہم اوپر ایک تمہید کے ساتھ بیان کر چکے ہیں کہ پاک فوج اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی ایک ناممکن عمل ہے ۔لیکن ایک اور راستہ ہے جو کامیاب مذاکرات کی طرف جاتا ہے وہ یہ کہ اگر واقعی ہمارے ادارے وزیرستان میں قیام امن کے لیے مخلص ہیں تو ان کو مذاکرات کا عمل سیاسی قیادت کے سپرد کرنا ہوگا خصوصا وہاں علاقے کی سیاسی اور سرکردہ قیادت کو ۔ان کو مکمل بااختیار بنانا ہوگا اور ان کو یہ باور کروانا ہوگا کے علاقائی اور ملکی امن کے لیے آپ کو جو بھی فیصلہ کرنے پڑے ان پر ہماری مکمل حمایت آپ کے ساتھ ہوگی اور جہاں آپ ہماری ضرورت محسوس کرو گے وہاں ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے ۔علاقائی اور ملکی امن کی خاطر ہم اپنی انا کو بیچ میں ہرگز نہ پڑنے دیں گے ۔
    اگر اسی طرح مذاکرات کا عمل شروع ہوتا ہے تو یقین مانیں مذاکرات کی شروعات میں ہی آپ کو مذاکرات کی کامیابی مل جائے گی اور علاقے میں امن و امان کا ایک دیرینہ خواب بھی بہت جلد پورا ہو جائے گا ۔

تبصرے بند ہیں