پیٹرول قیمتیں، اشرافیہ اس بوجھ سے آزاد کیوں؟ 57

پیٹرول قیمتیں، اشرافیہ اس بوجھ سے آزاد کیوں؟

تحریر۔۔۔ شاہد غزالی
لو جی اب ہم پیٹرول کی قیمت کو تقریباً 400 روپے پر لے کر آ گئے ہیں ۔ عوام احتجاج کرتی رہے ہمیں فرق نہیں پڑتا۔۔ اقتدار کی طاقت نے ساری انسانیت اور اخلاقیات کو بھی پامال کردیا ہے ۔ جس کی تنخواہ 30 سے 40 ہزار روپے ہے اسے بجلی ،پانی اور گیس کے بل بھی بھرنے ہیں اور جنکی تنخواہیں 40 سے 50 لاکھ روپے ہے ان کو یہ سارے یوٹیلٹی بل معاف ہیں ۔ مہنگا پیٹرول بھی غریب عوام کے لیے ہے اشرافیہ کو تو مروجہ قوانین کے تحت مفت ہی دیا جاتا ہے ۔ پھر کسی پیٹ بھرے حکمران طبقے کو عوام کی تکلیف کا احساس کیا ہوگا۔
پیٹرول صرف پاکستان ہی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ دنیا بھر کی معیشت، صنعت، تجارت اور روزمرہ زندگی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ لیکن پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں جس رفتار سے اضافہ ہوا ہے، اس نے عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی چلانے کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، سبزی، دودھ، ادویات، تعمیراتی سامان اور تقریباً ہر اس چیز کی قیمت متاثر ہوتی ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہے۔
23 ستمبر 2026 کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 1.70 روپے فی لیٹر کمی کرکے اسے 392.05 روپے فی لیٹر مقرر کیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 418.96 روپے فی لیٹر ہوگیا۔ یہ قیمت بھی اس وقت کے عالمی تیل نرخ، درآمدی لاگت، روپے کی قدر، فریٹ، حکومتی محصولات اور دیگر قیمت سازی اجزا کا نتیجہ ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک پٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی ماہانہ یا پندرہ روزہ بنیادوں پر ہوتی تھی، لیکن 2026 میں عالمی منڈی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے دوران قیمتوں میں روزانہ بنیادوں پر نظرثانی کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا۔ اس سے صارف کو یہ احساس پیدا ہوا کہ پٹرول کی قیمت اب ایک مستقل غیر یقینی کیفیت بن چکی ہے۔
ماضی میں پٹرول کہاں تھا اور آج کہاں پہنچ گیا؟
پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو اضافہ واضح نظر آتا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تاریخی اعدادوشمار کے مطابق 2000-01 میں پٹرول کی اوسط خوردہ قیمت تقریباً 29.34 روپے فی لیٹر تھی، جو 2005-06 میں 55.12 روپے، 2010-11 میں 75.70 روپے، 2011-12 میں 92.93 روپے اور 2012-13 میں 101.26 روپے تک پہنچ گئی۔
اس کے بعد بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ مثال کے طور پر جون 2018 میں پٹرول تقریباً 87.70 روپے فی لیٹر تھا۔
2022 میں عالمی تیل منڈی میں شدید بحران کے دوران پٹرول کی قیمت اپریل میں 149.86 روپے تھی، لیکن چند ہی ماہ بعد یکم جون کو 179.86، 3 جون کو 209.86، 16 جون کو 233.89 اور یکم جولائی کو 248.74 روپے تک پہنچ گئی۔۔
پٹرولیم لیوی آخر ہے کیا؟
عام آدمی کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو پاکستان میں پٹرول اسی تناسب سے سستا کیوں نہیں ہوتا؟
اس کی ایک بڑی وجہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (Petroleum Development Levy) ہے۔
پٹرول کی بنیادی قیمت میں درآمدی یا ریفائنری لاگت کے علاوہ فریٹ، آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن، ڈیلر مارجن، کسٹمز ڈیوٹی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور پٹرولیم لیوی سمیت مختلف اجزا شامل ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق رپورٹ بھی وضاحت کرتی ہے کہ عالمی قیمت اور درآمدی لاگت کے بعد دیگر اخراجات اور مارجنز شامل کرکے وفاقی پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی شامل کی جاتی ہے۔
23 ستمبر 2026 کے حساب سے پٹرول پر پٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر ہے۔ اسی طرح پٹرول پر کسٹمز ڈیوٹی تقریباً 23.68 روپے فی لیٹر اور دیگر قیمت سازی اجزا بھی شامل ہیں۔
یعنی موجودہ 392.05 روپے کے پٹرول میں صرف 80 روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں ہیں۔ یہ قیمت کا تقریباً پانچواں حصہ بنتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت لیوی کیوں ختم نہیں کرتی؟
یہاں اصل مسئلہ حکومت کی آمدنی کا ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 میں پٹرولیم لیوی سے 1.676 ٹریلین روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بجٹ کی دستاویز میں بھی پٹرولیم لیوی کی یہی رقم درج ہے۔
وزارتِ خزانہ اور حکومتی حکام کے لیے یہ رقم معمولی نہیں۔ پٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے لیے ایک اہم آمدنی کا ذریعہ ہے اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ رقم براہ راست وفاقی سطح پر حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے عالمی تیل قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت بعض اوقات لیوی برقرار رکھتی یا بڑھاتی ہے تاکہ بجٹ کا مالی ہدف پورا کیا جاسکے۔
اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ صرف ایک نوٹیفکیشن واپس لینے کا معاملہ نہیں؛ اس سے وفاقی بجٹ میں تقریباً 1.676 ٹریلین روپے کے خلا کو پُر کرنے کا سوال بھی پیدا ہوگا۔
اگر 80 روپے لیوی ختم کردی جائے تو پٹرول کتنے کا ہوسکتا ہے؟
یہاں ایک سادہ حساب سمجھنا ضروری ہے۔
23 ستمبر 2026 کو پٹرول کی قیمت 392.05 روپے ہے۔ اگر صرف 80 روپے کی پٹرولیم لیوی ختم کردی جائے اور باقی تمام اجزا اپنی جگہ برقرار رہیں تو نظریاتی طور پر قیمت تقریباً:
392.05 – 80 = 312.05 روپے فی لیٹر
بن سکتی ہے۔
اب ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا لیوی ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکتی ہے؟
اصولی طور پر حکومت پٹرولیم لیوی کی شرح کم یا ختم کرسکتی ہے، لیکن اس کے لیے متبادل مالی منصوبہ درکار ہوگا۔
مثلاً حکومت:
پٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار کم کرے۔
غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی کرے۔
سرکاری گاڑیوں اور مفت فیول کی سخت نگرانی کرے۔
ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے۔
سرکاری اداروں کے خسارے کم کرے۔
غیر ضروری مراعات اور پروٹوکول اخراجات کم کرے۔
لیوی کی مکمل یا جزوی کمی کو کم آمدنی والے طبقے تک منتقل کرنے کا شفاف نظام بنائے۔
ایسا نہ ہو کہ پٹرولیم لیوی ختم کرکے وہی رقم کسی دوسرے بالواسطہ ٹیکس کے ذریعے عوام سے وصول کی جائے۔ اب آجائیں سب سے اہم معاملے پر کہ کیا
سرکاری افسران کا مفت پٹرول ختم ہوسکتا ہے
یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر عوام مسلسل سوال اٹھاتے ہیں، لیکن یہاں بھی مکمل قومی تصویر پیش کرنے کے لیے احتیاط ضروری ہے۔ پاکستان میں وفاق، چاروں صوبوں، مسلح افواج، پولیس، عدلیہ، خودمختار اداروں اور سرکاری محکموں کے لیے الگ الگ گاڑی اور POL یعنی Petrol, Oil & Lubricants کے قواعد اور بجٹ ہوتے ہیں۔ ملک بھر کے تمام اداروں کا ایک مشترکہ ’’مفت پٹرول‘‘ نمبر عوامی طور پر دستیاب نہیں۔
البتہ سرکاری دستاویزات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اعلیٰ افسران کے لیے فیول کی خاصی بڑی ماہانہ حدود مقرر ہیں۔
مثلاً پنجاب کی حالیہ موٹر ٹرانسپورٹ پالیسی کے مطابق چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کے لیے مختلف سرکاری گاڑیوں کے ساتھ ماہانہ فیول کی حدود مقرر کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کے آفیشل اور پرسنل استعمال کی گاڑیوں کے لیے بالترتیب 500 اور 300 لیٹر ماہانہ تک کی گنجائش موجود ہے، جبکہ دیگر اعلیٰ افسران کے لیے بھی 200، 175، 150 اور 125 لیٹر سمیت مختلف حدود مقرر ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت نے مارچ 2026 میں ایندھن بچانے کے لیے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں 25 فیصد کمی کی تھی۔ اس وقت وزرا، مشیروں اور پارلیمانی سیکریٹریز وغیرہ کی ماہانہ حد 390 لیٹر سے کم کرکے 292 لیٹر کی گئی، جبکہ چیف سیکریٹری اور بعض دیگر اعلیٰ افسران کی حد 146 سے کم کرکے 110 لیٹر کی گئی۔
اگر سرکاری مفت پٹرول مکمل ختم کردیا جائے تو کتنی بچت ہوگی؟
البتہ حساب کا طریقہ بہت آسان ہے:
کل سالانہ فیول بچت = سرکاری طور پر ختم کیے گئے فیول کے لیٹر × فی لیٹر قیمت
مثلاً اگر فرض کریں کہ کسی ایک پروگرام کے تحت 10 لاکھ لیٹر ماہانہ غیر ضروری سرکاری فیول ختم کردیا جائے تو موجودہ 392.05 روپے کی قیمت پر ماہانہ تقریباً 39.2 کروڑ روپے اور سالانہ تقریباً 4.7 ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔
یہ صرف حساب سمجھانے کی مثال ہے، ملک بھر کے اصل سرکاری فیول کی مقدار نہیں۔
اسی طرح اگر حکومت تمام غیر ضروری سرکاری فیول استعمال کا مکمل آڈٹ کرکے اعدادوشمار جاری کرے تو عوام کو یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ اس مد میں سالانہ کتنی رقم خرچ ہوتی ہے اور کتنی حقیقی بچت ممکن ہے۔
عوام کو ریلیف کیسے مل سکتا ہے؟
پٹرول کی قیمت صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا تعلق پورے معاشی نظام سے ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد مال برداری کے کرایوں میں اضافہ کیا ہے، جس کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل پر پڑتا ہے۔
حکومت نے ستمبر 2026 میں کم آمدنی والے صارفین کے لیے فیول ریلیف اسکیم بھی شروع کی ہے، جس میں موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے مخصوص سبسڈی شامل ہے۔
لیکن مستقل حل صرف وقتی سبسڈی نہیں بلکہ ایسا پٹرولیم قیمت سازی نظام ہوسکتا ہے جس میں عالمی قیمت میں کمی کا فائدہ صارف تک پہنچے، جبکہ عالمی قیمت میں غیر معمولی اضافے کے وقت کم آمدنی والے طبقے کو ہدف بنا کر تحفظ دیا جائے۔
سوال حکومت سے ہے
عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر معاشی بحران ہے تو قربانی صرف عام آدمی کیوں دے؟
اگر پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی وصول کرکے حکومت ایک سال میں تقریباً 1.676 ٹریلین روپے حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اس رقم کا کتنا حصہ قرضوں، دفاع، انتظامی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر سرکاری ضروریات پر خرچ ہوگا۔
اسی طرح اگر سرکاری اداروں میں ہزاروں گاڑیاں چل رہی ہیں تو ان کے سالانہ فیول اخراجات کا مکمل آڈٹ عوام کے سامنے کیوں نہ رکھا جائے؟
حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو صرف پٹرول کی قیمت میں چند روپے کی عارضی کمی کافی نہیں۔ اسے پٹرولیم لیوی، سرکاری فیول، غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ٹیکسوں کے پورے نظام کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔
عوام کو سبسڈی نہیں بلکہ شفاف اور قابلِ پیش گوئی پٹرول قیمت سازی کا نظام چاہیے۔
حکومت اگر یہ ثابت کردے کہ عالمی قیمت بڑھے تو اضافہ کیوں ضروری ہے، عالمی قیمت کم ہو تو کمی کتنی ہونی چاہیے، پٹرولیم لیوی کیوں لی جارہی ہے، اس سے حاصل ہونے والی رقم کہاں خرچ ہورہی ہے اور سرکاری اداروں پر فیول کا کل سالانہ خرچ کتنا ہے تو عوام میں اعتماد بھی بڑھے گا اور پٹرول کی قیمت پر جاری بحث بھی اعدادوشمار اور حقیقت کی بنیاد پر ہوسکے گی۔
آخرکار مسئلہ صرف پٹرول کا نہیں، ریاستی اخراجات اور عام شہری کی آمدنی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا ہے۔ جب تک اس بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں دی جائے گی، پٹرول کی ہر نئی قیمت عوام کے لیے مہنگائی کی ایک نئی لہر کا پیغام لاتی رہے گی۔(شاہدغزالی)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں