سما کے بیورو چیف محمود بابر جان کو خیبرپختونخوا کی نئی انتظامی حکومت میں عہدہ دیئے جانے کے بعد ایک اور سینئر صحافی عماد جان کو میڈیا منیجر تعینات کردیا گیا۔۔ صحافی رضوان غلزئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر اس حوالے سے ٹوئٹ کے بعد صدیق جان نےبھی ایکس پر خیبر پختونخوا میں منتخب صوبائی حکومت کی معطلی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دور میں صحافیوں اور یوٹیوبرز کو مبینہ طور پر فراہم کی گئی سرکاری گاڑیوں، تنخواہوں اور دیگر مراعات کی تفصیلات منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی نئی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور سابق صوبائی حکومت کے دور میں سرکاری وسائل سے مستفید ہونے والے صحافیوں اور یوٹیوبرز کی تفصیلات جاری کریں تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ کن افراد کو سرکاری گاڑیاں، تنخواہیں یا دیگر مالی سہولتیں فراہم کی گئیں اور ان مراعات کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی۔صحافتی حلقوں میں ایسے صحافیوں کے طرزعمل کو صحافتی اصولوں، پیشہ ورانہ آزادی اور اخلاقی ذمہ داریوں کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس مؤقف کے مطابق صحافت کا بنیادی تقاضا اقتدار کی نگرانی اور عوام کے مفادات کا تحفظ ہے، نہ کہ سیاسی یا انتظامی سرپرستی کے تحت حکومتی عہدوں کا حصول۔ صحافیوں اور یوٹیوبرز کو مبینہ طور پر سرکاری گاڑیوں، تنخواہوں اور دیگر مراعات کی فراہمی سے متعلق تاحال ایسی مصدقہ سرکاری فہرست سامنے نہیں آسکی جس کی بنیاد پر متعلقہ افراد کے نام، ادائیگیوں کی مالیت یا گاڑیوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق کی جاسکے۔
11
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل