تحریر: بشریٰ خان زئی
پاکستان بالخصوص کراچی کے میڈیا ہاؤسز اس وقت شدید معاشی بحران کی زد میں ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا ورکرز کی تنخواہیں حکومتی اشتہارات سے مشروط ہیں۔ جب حکومت سے پالیسی یا سیاسی معاملات پر اختلاف ہوتا ہے تو اشتہارات کی بندش کا بہانہ بنا کر مالکان نیچے ملازمین کی تنخواہیں روک لیتے ہیں۔
اب تک کئی ٹی وی چینلز کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ اربوں روپے کے چینلز خریدنے والے مالکان کی اپنی طرزِ زندگی پر کوئی فرق نہیں آتا لیکن تنخواہ دار ملازمین کی زندگی اذیت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔
ایک طرف تنخواہوں کی عدم دستیابی اور گزشتہ کئی سالوں سے تنخواہیں نہ بڑھنے کا عمل اور دوسری طرف ڈاؤن سائزنگ کے نام پر ہونے والی ذلت آمیز برطرفیوں کی وجہ سے ملازمین ہر وقت ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔
ان سنگین حالات میں بھی ان ملازمین کا دکھ سمجھنے والا کوئی نہیں۔
پیمرا اس وقت کہاں ہے؟
پیمرا کے قوانین کس کے لیے ہیں؟
قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر وہ خاموش کیوں ہے؟
پیمرا سے گزارش ہے کہ ایسے تمام ٹی وی مالکان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں جن کے ملازمین کی تنخواہیں حکومتی اشتہارات پر منحصر ہیں۔
اور ان تمام ٹی وی چینلز کے مالکان کو وقت دیا جائے کہ گزشتہ سات آٹھ سال پہلے جو تنخواہیں روکی گئی تھیں ان کو فی الفور ادا کیا جائے۔اور پیمرا کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے .(بشری خان زئی)۔۔۔
13