بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی صدر قیوم بلوچ، جنرل سیکرٹری اللہ داد رند، سینئر نائب صدر اللہ یار ڈومکی، نائب صدور صداقت بلوچ، رمضان بھٹو، صفدر علی کھوسہ، سلطان کرد اور شیخ فرید، شعبہ خواتین کی مرکزی صدر صدف غوری، جنرل سیکرٹری فائزہ صدیقی، سیکرٹری اطلاعات نرگس نہاں، ڈویژنل صدر نصیر آباد مشتاق عزیز کھوسہ، ڈویژنل صدر سبی گووندا راہیجہ اور دیگر عہدیداروں نے 92 نیوز چینل اور روزنامہ زمانہ کی انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ بیورو کے 9 ملازمین کو فارغ کرنے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور میڈیا ورکرز کے معاشی و پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اپنے مشترکہ بیان میں بلوچستان میڈیا فورم کے رہنماؤں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو روزگار سے محروم کرنا انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک اقدام ہے، جس سے نہ صرف متاثرہ ملازمین بلکہ ان کے اہل خانہ بھی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہوں گے۔بلوچستان پہلے ہی بے روزگاری، معاشی بدحالی اور روزگار کے محدود مواقع جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے حالات میں میڈیا اداروں کی جانب سے ملازمین کو فارغ کرنا ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی اور میڈیا ورکرز محدود وسائل اور مشکل حالات کے باوجود عوام تک درست، بروقت اور مستند معلومات پہنچانے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ میڈیا ملازمین کسی بھی ادارے کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور ان کی محنت سے اداروں کی ساکھ اور کارکردگی قائم رہتی ہے، اس لیے ان کے روزگار کا تحفظ اور بنیادی حقوق کی پاسداری میڈیا اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کو مالی یا انتظامی مسائل کی بنیاد پر ملازمین کو فارغ کرنے سے پہلے تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہیے اور ایسے متبادل اقدامات اختیار کرنے چاہئیں جن سے ملازمین کا روزگار متاثر نہ ہو۔ اچانک برطرفیوں سے نہ صرف صحافیوں کا معاشی مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے بلکہ ان کے بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے 92 نیوز چینل اور روزنامہ زمانہ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ بیورو کے 9 فارغ کیے گئے ملازمین کے معاملے پر فوری نظرثانی کرتے ہوئے انہیں بحال کیا جائے اور ان کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو پہلے ہی متعدد پیشہ ورانہ، معاشی اور حفاظتی مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں ان کی ملازمتوں کا خاتمہ ان کے مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔ بلوچستان میڈیا فورم کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ صحافیوں اور میڈیا ملازمین کے حقوق کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے اور کسی بھی میڈیا ورکر کے ساتھ ناانصافی کی صورت میں آواز بلند کرنا صحافتی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میڈیا فورم صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے روزگار، معاشی تحفظ اور پیشہ ورانہ حقوق کے دفاع کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
32
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل