media houses ko 2 saal ke wajubaat ada

نئے ٹی وی چینلزلائسنس جاری کرنے کے خلاف پی بی اے کی اپیل منظور۔۔

عدالت عظمیٰ نےʼپیمرا کی جانب سے مبینہ صلاحیت سے زیادہ چینلوں کو لائسنس جاری کرنےʼʼسے متعلق مقدمہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)کی جانب سے دائر کی گئی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ اور پیمرا کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے ہیں اور پیمرا کو دوبارہ معاملہ سننے اور پچھلی کاروائی سے متاثر ہوئے بغیرنئے سرے سے فیصلہ جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےاپیل نمٹادی ہے ، جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روز کیس کی سماعت کی تواپیل گزار ، پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیا رکیا کہ پیمرا اگر پی بی اے کا موقف سن لے توہمارا اعتراض ختم ہوجائے گا،قانون کے مطابق ممبران کو میٹنگ کیلئے ٹائم اور جگہ بھی نوٹس میں بتانا ہوتی ہے، پی بی اے کی درخواست پر مجاز اتھارٹی نے فیصلہ نہیں کیاہے،عدالت قرار دے کہ پیمرافیصلے کے وقت پرانے فیصلے سے متاثر نہیں ہوگا،جس پرجسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دئیے کہ پیمرا ریاستی ادارہ ہے اگر شکایت کنندہ کو سننے سے مسئلہ حل ہوتا ہے تو اسے سن لے ، بعد ازاں فاضل عدالت نے اپیل نمٹا دی ،یاد رہے کہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے پیمرا کو ایک ریپریزنٹیشن / درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں کل 80چینلز چلانے کی صلاحیت ہے لیکن اس نے اس کے باوجود 119لائسنس جاری کردیے ہیں ، پیمرا نے قرار دیا تھا کہ اس نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ،انٹر نیٹ پروٹوکول اور ڈائریکٹ ٹو ہوم کے ذریعے اپنی صلاحیت 250چینلز چلانے تک بڑھا لی ہے ،جس پر پی بی اے نے اس حکم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تو فاضل عدالت نے چیئرمین پیمرا سے یہ بیان حلفی لیتے ہوئے اپیل نمٹا دی تھی کہ پیمراآئین کے آرٹیکل 18کے تحت پرانے اور نئے لائسنس ہولڈروں کے مفادات کا تحفظ کرے گا،اس فیصلے کو پی بی اے نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں