خصوصی رپورٹ۔۔
تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کی تقریر براہ راست دکھانے کی اجازت دی تھی،عمران خان نے کبھی نوازشریف کی تقریر دکھانے سے منع نہیں کیا، کچھ لوگوں نے ذاتی رائے دی تھی کہ تقریر نہ دکھائی جائے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوے سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ اچھی بات ہے میڈیا نے نوازشریف کی تقریر براہ راست دکھائی،نواز شریف مجھے جسمانی طور پر تو ٹھیک تھے تاہم ذہنی طور پر وہ ٹھیک نہیں لگے،ان کی براہ راست تقریر دکھانے کا فائدہ ہوا کیونکہ یہ بے نقاب ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اے پی سی صرف کھانے پینے کا پروگرام تھا، اپوزیشن صرف کرپشن کیسز ختم کرنا چاہتی ہے، اپوزیشن نےکہا کہ اگر عمران خان معاہدہ کرلیں تو اے پی سی اور حکومت مخالف تحریک ختم کر دینگے،اس معاہدے کے مطابق العزیزیہ، چوہدری شوگر ملز، ایون فیلڈ، سرے محل اور دیگر کیسز ختم ہونے تھے ،ڈرافٹ کی کاپی موجود ہے، عمران خان نے معاہدہ کرنےسے انکار کر دیا تھا،اپوزیشن کے ذاتی مطالبات کو نہیں مانا گیا اس لیے ان کو تکلیف ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر طلاعات سینیٹر شبلی فراز نے مطالبہ کیا ہے کہ اداروں کو نواز شریف کی تقریر کا نوٹس لینا چائیے،اچھا ہوا نواز شریف کی تقریر براہ راست نشر ہونے سے یہ خود ایکسپوز ہوئے،بحث ہونی چاہیے کہ نواز شریف کو بیانیہ کس کی طرف سے دیا جا رہا ہے؟یہ خود اقتدار میں ہوں تو سب ٹھیک اپوزیشن میں ہوں تو جمہوریت خطرے میں،نواز شریف باہر بیٹھ کر ہمارے ملک کے قانون کا منہ چڑا رہے تھے،سارا واویلا کرپشن کو پس پشت ڈالنے کیلئے کیا جا رہا ہے،اس اپوزیشن نے ملک کیساتھ جو کھلواڑ کیا اس کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں۔۔دریں اثنا مشیر داخلہ شہزاداکبر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کہتے ہیں پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں،ابھی قوم نے قوانین کے برعکس ایک سزایافتہ اشتہاری مجرم کا لائیو بھاشن سنا۔شہزاد اکبر نے کہاکہ کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو اورہمیشہ کی طرح گرم ہواچلتے ہی ووٹر کو چھوڑ کر لندن بھاگ جاتے ہیں،میاں صاحب بضد ہیں صرف وہ جج قبول ہے جو انہیں ثبوتوں کے باوجود بری کرے۔مشیر داخلہ کا اپنے ٹوئٹ میں مزید کہناتھا کہ بلاول چونکہ لکھی تقریر کر سکتا ہے اس لئے فرما رہے ہیں سابق وزیراعظم کو بولنے نہیں دیا جا رہا بھائی آپ سمیت آپکے سابق وزیراعظم کی اصل صورت پوری قوم لائیو دیکھ رہی ہے لگتا ہے شیری صاحبہ دور بیٹھیں ہیں اور لکھی تقریر درست نہ کر سکی۔اپوزیشن کی اے پی سی میں نوازشریف کی تقریر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے معاون خصوصی شہبازگل کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی تقریر پر ایکشن لینا چاہتے تھے کیوں کہ مفرور مجرم کی تقریر نشر نہیں کی جا سکتی ہے، لیکن وزیراعظم نے روک دیا اور کہا ان کا سب کچھ نشر ہونے دیا جائے، وزیراعظم کا شکرگزار ہوں انہوں نے ہماری بات نہیں مانی، نوازشریف نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے جھوٹ بولا، وہ پہلے دن سے ہی جھوٹ بول رہے ہیں اور اتنے جھوٹ بول چکے ہیں کہ اب ان کی وضاحت بھی نہیں کر سکتے، انہوں نے صرف یہ تقریر کی مجھے کیوں نکالا۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

