مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اجمل وزیر کو عہدے سے ہٹا کر کامران بنگش کو مشیر اطلاعات خیبرپختونخواکی اضافی ذمہ داری سونپ دی گئی اور اب اجمل وزیر کی آڈیو لیک ہونے کا وزیراعلیٰ محمود خان نے نوٹس لے لیا اور ان کیخلاف انکوائری کا بھی حکم دیدیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ آڈیو لیک ہونے کا وزیراعلیٰ نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کی ہدایت کی اور جلد از جلد فیکٹس فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینےکےاحکامات بھی جاری کردیئے ۔اجمل وزیر کی اشتہارات میں حصہ لینے کے حوالے سے مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی اور ان پر کمپنی سےکمیشن لینےکا الزام لگایا گیا۔دنیا نیوز کے مطابق یہ آڈیو اجمل وزیر اور اشتہاری کمپنی کے مالک کے درمیان گفتگو پر مبنی ہے جس میں جی ایس ٹی اور ٹیکسز میں چھوٹ پر بھی بات چیت کی گئی ۔کمپنی مالک نے استفسار کیا کہ جی ایس ٹی کتنی ہوتی ہے؟ ہرصوبےکی الگ جی ایس ٹی ہوتی ہے؟اجمل وزیر نے جواب دیا کہ آپ نےاس دن کہاکہ دو فیصدٹیکس کٹےگا ۔ کمپنی مالک کا کہناتھا کہ اشتہارات کاپورامیڈیاپلان بنایاہواہے، 2 نہیں سر 10 فیصددوں گا، جی ایس ٹی نہیں کٹےگاتومیں زیادہ دوں گا۔دریں اثنا اجمل وزیر نے کہا ہے کہ میرے خلاف سازش ہوئی، سازشوں نے راستہ روکنے کے لیے گھٹیا طریقہ اپنایا۔اپنے ایک بیان میں اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کا قائل ہوں الزامات پر سامنا کروں گا۔ مختلف اجلاسوں اور بریفنگز کو ایڈٹ کرکے من گھڑت آڈیوں تیار کرائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ مبینہ آڈیو ثیپ کو ایک جگہ سے کاٹ دوسرے سرے کے ساتھ جوڑا گیا ہے، آڈیو کو ایڈٹ کرکے پیش کیا گیا ہے، جس بنیاد پر یہ آڈیو بنائی گئی ہے وہ اس اشہاری کمپنی کی فہرست ہے جو ٹی وی چینل کو ملنا تھا، اطلاعات کے رولز کے مطابق سٹیرنگ کمیٹی کا چیئرمین اطلاعات کا وزیر ہوتا ہے، سٹیرنگ کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے جس کی صدارت وزیر صحت نے کی تھی۔سابق مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ جس معاملے پرتنقید کانشانہ بنایاجارہاہےاس سےمیرا تعلق نہیں، اشتہارمحکمہ صحت کاتھا، چیئرمین وزیرصحت ہوتاہے، میں کمیٹی میں اعزازی ممبرتھا، فیصلے کااختیار ہی نہیں تھا۔اس سے قبل اشتہارات میں کمیشن لینے کے مبینہ الزام میں اجمل وزیر کو مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ معاون خصوصی کامران بنگش کو مشیر اطلاعات کی اضافی ذمہ داری مل گئی۔

