سندھ ہائیکورٹ میں اینکر مرید عباس قتل کیس میں ملزم عادل زمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔۔۔ قبل ازیں فریقین کے دکلا نے دلائل مکمل کرلئے جس کے بعد معزز عدالت نے ملزم عادل زمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔۔۔ ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے کیس کی دستاویزات تک نہیں دیں، وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ مرید عباس اور خضرحیات کا قتل عاطف زمان نے کیا،عادل زمان کا کوئی کردار نہیں ہے۔۔ملزم عادل زمان سات ماہ سے بے قصور جیل میں ہے۔۔ مدعیہ کے وکیل جبران ناصر ایڈوکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ۔۔ملزم عادل زمان مرید عباس سمیت دونوں افراد کے قتل کے وقت ساتھ تھا، ملزم کے وکیل عادل زمان کی موجودگی سے انکار نہیں کررہے، عادل زمان نے گولی نہیں چلائی مرید عباس کے قتل میں عاطف زمان کی مکمل معاونت کی، مرید عباس اور خضرحیات کو ایک ہی پستول سے قتل کیا گیا، جبران ناصر کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے پستول عاطف زمان اور لائسنس عادل زمان سے برآمد کیا،پراسیکیوٹر نے بھی عادل زمان کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی اور کہا کہ۔۔ملزم عادل زمان عاطف زمان کا شریک جرم ہے، ضمانت پر رہا نہیں کیا جاسکتا،ملزمان کے اسلحہ لائسنس، ایف ایس ایل رپورٹ کیس کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔۔عدالت کی جانب سے ملزم کو ضمانت ملنے پر مقتول مرید عباس کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل میں جائیں گی۔۔
مریدعباس قتل کیس، ملزم عادل زمان کی ضمانت ۔۔
Facebook Comments
