mir shakeel ki qaid ka hisaab kon dega

میرشکیل کی قید کا حساب کا کون دیگا؟ پرویز رشید۔۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات ونشریات کے اجلاس میں جنگ گروپ کےایڈیٹرانچیف میرشکیل الرحمان کی غیرقانونی گرفتاری کےمعاملے پر بحث ہو ئی۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا میرشکیل الرحمان کو حکومتی حراست میں 6 ماہ ہوگئے، کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، وہ کل بری ہوگئے تو ان کی 6 ماہ قید کاحساب کون دے گا؟َ وزیراعظم نے تقریروں میں کہاتھا اقتدار میں آئے تو میرشکیل الرحمان کو جیل میں ڈال دیں گے، قائمہ کمیٹی کوان کی رہائی کے لئے آواز اٹھانی چاہیئے ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نےکہا میر شکیل الرحمان کی گرفتاری سے وزیراعظم کا کوئی لینا دینا نہیں ،یہ نیب کامعاملہ ہے ، انصاف سب کو ملنا چاہیے اور بے انصافی کے خلاف آواز بھی اٹھانی چاہیے۔  قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ سینیٹر پرویز رشید نے میرشکیل الرحمان کی غیرقانونی گرفتاری کا معاملہ اٹھاتے ہوئےکہا جنگ جیو کے ایڈیٹرانچیف کو حکومتی حراست میں6 ماہ ہوگئے کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔کسی بھی شخص کو حراست میں رکھنے کی تین وجوہات ہوتی ہیں ،ایک یہ کہ وہ ریکارڈ میں تبدیلی کرسکتاہے ،دوسرا وہ شہادتیں ختم کرسکتا ہے اور تیسرا ملک سے فرار ہوسکتاہے،اب تک ان تینوں باتوں کا امکان ختم ہوچکا ہے۔ میرشکیل الرحمان کو گرفتار کرنے والوں کےپاس سب کچھ آچکا ہے، میرشکیل الرحمان ریکارڈ میں تبدیلی کرسکتےہیں نہ شہادتیں ختم کرسکتےہیں، ای سی ایل کا قانون موجود ہے ، وہ بیرون ملک بھی فرار نہیں ہوسکتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کل کو میرشکیل الرحمان مقدمہ میں بری ہوگئے تو 6 ماہ حراست کا حساب کون دے گا؟ عالمی اداروں کی رپورٹس میں کہاجارہاہےکہ پاکستان میں انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہورہا۔ پرویزرشید نے کہا شیخ رشید نے عید سے پہلے کہاکہ انہوں نے وزیراعظم سے میر شکیل الرحمان کی رہائی کی بات کی ہے،اگر گرفتاری سے وزیراعظم کا تعلق نہیں تو وفاقی وزیر نے ان سے رہائی کی بات کیوں کی ؟ ایک اوروفاقی وزیربھی کہہ چکےہیں کہ میر شکیل الرحمان کے خلاف کمزور مقدمہ بنایا گیا ہے، ان وزراء کےبیانات کےبعد اس موقف کومضبوطی ملتی ہےکہ میرشکیل کو جیل میں رکھنا مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا یہ معاملہ اطلاعات کی قائمہ کمیٹی کےدائرہ کار میں آتاہے لہٰذامیر شکیل الرحمان کی رہائی کےلیے باقاعدہ آواز اٹھانی چاہیے ۔ چیئرمین کمیٹی سینٹر فیصل جاوید نے کہا انصاف سب کو ملنا چاہیے اور بے انصافی کے خلاف آواز بھی اٹھانی چاہیے تاہم نیب ہمارے وزیراعلٰی اور ہمارے وزراء و ممبران کو بھی بلاتا ہے تو وہ جاتے ہیں کیوں کہ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں اورادارے آزادانہ کام کررہے ہیں ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں