mir shakeel ka fard jurm se inkaar

میرشکیل کی درخواست ضمانت، نیب کو نوٹس جاری۔۔

جنگ اور جیو نیوز کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ میر شکیل الرحمٰن سے انکوائری کے دوران کیا ملا ہے؟جنگ اور جیو نیوز کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔جسٹس سردار احمد نعیم نے سوال کیا کہ اس درخواست ضمانت کے لیے آپ کی فریش گراؤنڈز کیا ہیں؟میر شکیل الرحمٰن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں انہیں جیل میں رکھنے کو کوئی جواز نہیں۔انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن سے کچھ بھی برآمد نہیں کرنا, انہیں جیل میں رکھنا درست نہیں ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ضمانت پر نیب کو 28 مئی کے لیے نوٹس جاری کر دئیے۔ نیب کے مطابق اس وقت کے وزیر اعلیٰ نواز شریف کو بھی اس کیس میں طلب کیا گیا ہے۔عدالت نے سوال کیا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ کو شامل تفتیش کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ تاحال نواز شریف نے انکوائری جوائن نہیں کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار 45 سال سے صحافت اور نیوز بزنس سے وابستہ ہے۔ نیب نے غیرقانونی طور پر انہیں گرفتار کیا اور گرفتاری کی وجوہات بھی غیرقانونی ہیں۔دوسری جانب درخواست گزار میر شکیل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ نیب نے گرفتاری سے قبل اپنے ہی بنائے گئے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔ نیب کی جانب سے دوران تفتیش کچھ برآمد نہیں ہوا۔میر شکیل الرحمٰن نے کہا کہ 34 برس قبل خریدی گئی پراپرٹی کےتمام شواہد نیب کو فراہم کرچکا ہوں۔ احتساب بیورو نے شکایت کی تصدیق کی اسٹیج پر گرفتار کیا۔درخواست گزار میر شکیل الرحمٰن نے استدعا کی کہ عدالت درخواست ضمانت منظور کرے۔یاد رہے کہ میر شکیل الرحمٰن نے 1986ء میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 54 کنال پرائیویٹ پراپرٹی خریدی، اس خریداری کو جواز بنا کر نیب نے انہیں 5 مارچ کو طلب کیا۔میرشکیل الرحمٰن نے اراضی کی تمام دستاویزات پیش کیں اور اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا، 12 مارچ کو نیب نے دوبارہ بلایا جب میر شکیل انکوائری کے لئے پیش ہوئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق اراضی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری بلا جواز تھی، کیونکہ نیب قانون کسی بزنس مین کی دوران انکوائری گرفتاری کی اجازت نہیں دیتا۔لاہور ہائیکورٹ میں دو درخواستیں، ایک ان کی ضمانت اور دوسری بریت کے لئے دائر کی گئیں، عدالت نے وہ درخواستیں خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ مناسب وقت پر اسی عدالت سے دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں