لاہور ہائیکورٹ نے جنگ گروپ اور جیو نیٹ ورک کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت 22 جون تک ملتوی کر دی۔ میر شکیل الرحمٰن کے وکیل معروف قانون دان امجد پرویز نےعدالت سے استدعا کی کہ معاملہ کی جلد سماعت کر لی جائےمیر شکیل الرحمٰن جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، دوران حراست ان کے بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا میر شکیل کی 94 سالہ والدہ سخت بیمار ہیں اس پر جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ہمیں آج ہی فائل ملی ہے، پڑھے بغیر کس طرح سن سکتے ہیں اس کیس کو سوموار کے دن سنا جائے گا۔ میر شکیل الرحمٰن نے اپنی درخواست میں موقف اپنا رکھا ہے کہ نیب نے سیاسی اور ذاتی عناد کے تحت درخواست گزار کو 34سال پرانے اراضی کی خریداری کے ایک ایسے معاملہ میں غیر قانونی طور پر گرفتار کر رکھا ہے جو نیب کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتا ایک غیر متاثرہ فریق کی شکائیت پر اس شکائیت کے تصدیقی مرحلہ پر درخواست گزار کو گرفتار کیا گیا جبکہ درخواست گزار خود نیب کے روبرو پیش ہوئے اور ثبوت بھی فراہم کیئے نیب نے گرفتاری سے قبل اپنے ہی بنائے گئے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی نیب کیجانب سے دوران تفتیش کچھ برآمد نہیں ہوا 34 برس قبل خریدی گئی پراپرٹی کےتمام شواہد نیب کو فراہم کیئے جا چکے ہیں اس لیئے عدالت سےاستدعا ہے کہ درخواست سماعت ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے ۔دوسری جانب نیب نے میر شکیل کی ضمانت کی درخواست میں اپنا جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دیا نیب کا جواب 17 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا کہ میر شکیل کی ضمانت کیلئے غیر معمولی صورتحال نہیں ہےقانون کے مطابق صرف غیر معمولی حالات میں ہی ہائی کورٹ سنگین مقدمات کے ملزمان کو ضمانت دے سکتی ہے۔میر شکیل الرحمن کی لاہور ہائیکورٹ کے روبرو ضمانت کی درخواست پر کارروائی عید الفطر کی تعطیلات کے بعد 28 مئی تک ملتوی کی گئی مگر اس کیس کی سماعت کرنے والے مسٹرجسٹس سردار احمدنعیم کی سربراہی میں بنچ کی 28 مئی کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی اور اس کیس کی سماعت نہ ہو سکی یکم جون سے مسٹر جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں نیب کیسوں کی سماعت کے لیئے نیا بنچ تشکیل دیا گیا میر شکیل الرحمن کی درخواست ضمانت نئے بنچ کے روبرو سماعت کے لیئے 11جون کے لیئے فکس ہوئی مگر 6جون کو بنچ کے رکن مسٹر جسٹس فاروق حید ر ایک ہفتہ کی رخصت پر چلے گئے جس کی وجہ سے11جون کو درخواست ضمانت کی سماعت نہ ہو سکی اور میر شکیل الرحمن کی درخواست ضمانت کی سماعت کے لیئے 17 جون کی تاریخ ڈالی گئی دو رکنی بنچ کے فاضل رکن جسٹس فاروق حیدر نے 15جون سے دوبارہ بنچ میں کام کرنا تھا مگر 15جون کو وہ پھر رخصت پر چلے گئے روسٹر کے مطابق جسٹس طارق عباسی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بنچ کے کام کرنے کی معیاد بھی 15جون کو ختم ہو رہی تھی اس لیئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے فاضل جج کے رخصت پر جاتے ہی ہائیکورٹ کی جسٹس مس عالیہ نیلم کو دو رکنی بنچ کا سربراہ مقرر کرکے بنچ کی ازسر نو تشکیل کر دی۔

