سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میر شکیل الرحمٰن کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میر شکیل الرحمٰن کی درخواستِ ضمانت کی سماعت ہوئی۔عدالتِ عظمیٰ نے احتساب عدالت سے بھی رپورٹ طلب کر لی اور سوال کیا کہ ٹرائل کہاں تک پہنچا۔میر شکیل الرحمٰن کے وکیل خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ میر شکیل الرحمٰن پر پلاٹوں میں رعایت لینے کا الزام ہے جبکہ رعایت دینے کا الزام سابق وزیرِ اعلیٰ، ڈی جی ایل ڈی اے اور ایک ڈائریکٹر پر ہے، وزیرِ اعلیٰ اور افسران پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام ہے۔جسٹس قاضی امین نے ان سے استفسار کیا کہ کیا ایل ڈی اے کے افسران اور سابق وزیرِ اعلیٰ کو گرفتار کیا گیا؟خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میر شکیل الرحمٰن کے علاوہ کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔جسٹس قاضی امین نے سوال کیا کہ کیا میر شکیل الرحمٰن پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میر شکیل الرحمٰن پر فردِ جرم عائد نہیں ہوئی اور وہ 12 مارچ سے جیل میں ہیں جبکہ ایک ملزم ملک میں موجود نہیں ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے 2 ہفتے میں قومی احتساب بیورو (نیب) سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

