لاہور کی احتساب عدالت نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 29 جون تک توسیع کردی۔احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے سوال کیا کہ میر شکیل الرحمٰن کا پتہ چلا ہے وہ اسپتال میں ایڈمٹ ہیں، اُن کے وکیل نے کہا کہ جی میر شکیل الرحمٰن اسپتال میں زیر علاج ہیں۔عدالت نے میر شکیل الرحمٰن کے ریفرنس کی رپورٹ نیب حکام سے طلب کرلی، نیب کی جانب سے نیب پراسیکیوٹر عاصم ممتاز عدالت میں پیش ہوئے۔یاد رہے کہ میر شکیل الرحمٰن پرائیویٹ پراپرٹی کے 34 سال پرانے کیس میں 93 دن سے پابند سلاسل ہیں۔میر شکیل الرحمٰن نے 1986 میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 54 کنال پرائیویٹ پراپرٹی خریدی، اس خریداری کو جواز بنا کر نیب نے انہیں 5 مارچ کو طلب کیا۔انہوں نے تمام دستاویزات پیش کیں اور اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا، 12 مارچ کو نیب نے دوبارہ بلایا، میر شکیل الرحمٰن انکوائری کے لئے پیش ہوئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق اراضی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری بلا جواز ہے، کیونکہ نیب قانون کسی بزنس مین کی انکوائری لیول پر گرفتاری کی اجازت نہیں دیتا۔لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست میر شکیل الرحمٰن کی ضمانت اور دوسری بریت کے لئے دائرکی گئی۔عدالت نے درخواستیں خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ مناسب وقت پر اسی عدالت سے دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں۔
میرشکیل کے جوڈیشل ریمانڈ میں اضافہ ۔۔
Facebook Comments
