جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میزبان سلیم صافی سے گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کوئی ایسی پالیسی نہیں اپنا رہی ہے جس میں میڈیا کودبایا جائے،ٹائیگر فورس کو ڈرامہ کہنا نامناسب بات ہے،فورس کا بڑا مثبت کردار رہا ہے،چینی کمیشن رپورٹ میں جن جن کا نام ہے کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گاکچھ کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی ہے،نواز شریف کی گارنٹی دینے والے شہباز شریف تھے انہیں چاہئے کہ ان کو لے کر آئیں،شبلی فراز نےکہا کہ آپ نے اپنے ابتدائیہ میں جو بات کی کہ وفاقی حکومت نے پہاڑ جیسی غلطیاں کیں میرا اس سے سخت اختلاف ہے کیونکہ آپ یہ جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسی وبا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے بہت کامیابی سے ایڈریس کیا ہے جو آپ کو تعداد نظر آتی ہے چاہے وہ اموات کی صورت میں ہو چاہے وہ اس کی مریضوں کی صورت میں ہو میں حکمت عملی کے لحاظ سے کامیابی قرار دے رہا ہوں۔دنیا کے جو بہترین ممالک ہیں ان کو بھی آپ کہہ دیں کہ وہ اس کو ہینڈل نہیں کرسکے ایک بندہ بھی مرے تو اس کا بھی دکھ ہے اور بہت افسوسناک ہے لیکن جب ایک وبا جو اتنی شدید اور اتنی خطرناک ہے اس کی لپیٹ میں تو سب کچھ آسکتا تھااور آسکتا ہے ہمارا ملک ایک غریب ملک ہے جہاں ادارے مفلوج ہیں ہمارا ہیلتھ کیئر سسٹم آپ کو پتہ ہے ۔دنیا کے ہر ملک نے زمینی حقائق کے حساب سے اپنی تئیں حکمت عملی ترتیب دینی ہے تاکہ وہ اس پر قابو پاسکیں اگر ہم مکمل کرفیو لگا دیتے اور جیسا کے سندھ نے کوشش کی مختلف ہونے کی لیکن نتیجتاً وہ فارمولا مکمل ناکام ہواوہاں کے مقامی لوگوں نے وہاں پر ایک طرح سے بغاوت کردی کہ ہم تو کاروبار کھولیں گے ۔وزیراعظم کی حکمت عملی کا بنیادی محوریہ تھا کہ اس ملک میں اکثریت غریب ہے دیہاڑی دار ہیں چھوٹے کاروبار ہیں اس طرح کے لوگوں کو کیسے تحفظ دینا ہے۔پاکستان کے لوگوں کی جومذہب سے عقیدت ہے جس طرح وہ اپنے مذہبی فرائض کو سر انجام دینا چاہتے ہیں تو سعودی عرب کے ساتھ آپ موازنہ نہیں کرسکتے ۔ہم نے ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دی جس میں کہ ہم یہ کہیں کہ آپ کوحفاظتی تدابیر اختیار کرناچاہئے۔
میڈیا کودبانے کی کوئی پالیسی نہیں، شبلی فراز۔۔
Facebook Comments
