اسلامی نظریاتی کونسل نے مذہبی ٹی وی چینلز کو بھی دیگر ٹی وی چینلز کی طرح باقاعدہ لائسنس جاری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی نشریاتی اداروں کو محض این او سی دینے کے بجائے باضابطہ لائسنسنگ کے نظام میں شامل کیا جائے۔ کونسل نے اس مقصد کے لیے متعلقہ قوانین اور قواعد و ضوابط میں ضروری ترامیم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کا 247واں اجلاس چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مذہبی ٹی وی چینلز کی لائسنسنگ کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذہبی چینلز کو دیگر نشریاتی اداروں کی طرح لائسنس جاری کرنے کے لیے قانونی اور انتظامی سطح پر مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ مذہبی ٹی وی چینلز کے معاملے میں صرف این او سی جاری کرنا کافی نہیں بلکہ ان کے لیے باقاعدہ لائسنس کے اجرا کا طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے کونسل نے متعلقہ قوانین اور قواعد میں ترامیم کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مذہبی نشریاتی اداروں کو بھی دیگر ٹی وی چینلز کی طرح باقاعدہ لائسنس فراہم کیے جاسکیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے لائسنس جاری کرنے کی ذمہ داری پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے پاس ہے۔ پیمرا کے موجودہ لائسنسنگ نظام میں نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز، انٹرٹینمنٹ، اسپورٹس، ایجوکیشن، زراعت، صحت اور علاقائی زبانوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے لائسنس کی کیٹیگریز موجود ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش مذہبی ٹی وی چینلز کی قانونی حیثیت اور لائسنسنگ کے نظام کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے۔ تاہم اس سفارش پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ قوانین اور قواعد میں ترامیم اور مجاز اداروں کی جانب سے ضروری اقدامات درکار ہوں گے۔کونسل کی جانب سے سامنے آنے والی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ متعلقہ حکومتی اور ریگولیٹری اداروں کی سطح پر زیر غور آسکتا ہے کہ مذہبی ٹی وی چینلز کو دیگر چینلز کے مساوی لائسنسنگ نظام میں شامل کرنے کے لیے کیا قانونی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
18