صحافی مطیع اللہ جان نے سپریم کورٹ میں اپنے خلاف چلنے والے توہین عدالت کے مقدمہ میں جواب جمع کروا دیا ہے ،گذشتہ روز جمع کروائے گئے 35صفحات کے مفصل جواب میں مسول الیہ مطیع اللہ جان نے موقف اختیار کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے کے بعد معاملہ ایف بی آر کو بھجوانے اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں اگر سپریم جوڈیشل کونسل مناسب سمجھے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ازخود ریفرنس چلانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو متعدد افراد نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور میں نے بھی اس پر ایک ٹویٹ کرکے اپنا اضطراب ظاہر کیا تھا،اگر میرے ان الفاظ کو غیر موزوں سمجھا جاتا ہے یا ان سے معزز ججوں کی د ل آزاری ہوئی ہے تو اس پر افسوس کیا جاتا ہے ،تاہم وہ توہین عدالت کے نوٹس میں لگائے گئے الزامات کے حوالے سے عدالت میں اپنے موقف کا دفاع کریں گے،مسول الیہ نے کہا ہے کہ عدلیہ کی جانب سے کسی بھی فیصلے کے اجراء کے بعد اس پر ایمانداری اور نیک نیتی سے کی جانے والی تنقید اور تبصرے پر سزا دینے کی بجائے اس کی حوصلہ افزاء کی جانی چاہیے ،مسول الیہ نے کہا ہے کہ اس نے اپنے 25سالہ صحافتی کیریئر کے دوران ہمیشہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی اورآئین کی سربلندی کے لئے کام کیا ہے اوروہ عدلیہ کی آزادی وخود مختاری کا بہت بڑا علمبردار ہے ،وہ عدلیہ اور اس کے ججوں کا تہیہ دل سے احترام کرتا ہے ،مسول الیہ نے کہا ہے کہ میں نے یہ ٹویٹ ایمانداری اور اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق کیا تھا اس میں عدلیہ کی عزت واحترام کے لئے کسی بھی قسم کی کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی،مسول علیہ نے فاضل عدالت سے 15جولائی کو جاری کیا گیا توہین عدالت کا اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لیتے ہوئے اس کے خلاف کی جانے والی توہین عدالت کی کارروائی کو ختم کرنے اور توہین عدالت آرڈیننس 2003کو آئین کے آرٹیکل 19کے ساتھ متصادم ہونے کی بناء پر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے ۔

