وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز سے اے پی این ایس اور پی بی اے کے عہدیداران نے ملاقات کی اور میڈیا کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، اس موقع پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کے مسائل حل ہونیوالے ہیں، میڈیا صنعت کی ترقی اور فروغ کیلئے کوشاں رہینگے،صدر اے پی این ایس حمید ہارون نے وزیر اطلاعات کو پرنٹ میڈیا اور خصوصاً سندھی اخبارات کے مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا، اس موقع پر سیکرٹری جنرل اے پی این ایس سرمد علی اور دیگر عہدیداران نے بھی اظہار خیال کیا، علاوہ ازیں وزیر اطلاعات سےپاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ملاقات کی، صدر پی بی اے شکیل مسعود نے وزیر اطلاعات کو الیکٹرانک میڈیا کی صنعت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا،وزیر اطلاعات نے کہا کہ میرے لیے آپ سے ملاقات باعث افتخار ہے، ملاقات کے بعد مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا، باہمی تعاون اور رابطے مسائل کے حل کیلئے ضروری ہیں، غیر یقینی صورتحال کسی بھی کاروبار کیلئے نقصان دہ ہے، آپ نے مسائل کی صحیح نشاندہی کی،شکایات کے ازالہ کے حوالے سے مربوط میکانزم ترتیب دینا ہو گا، پروگراموں کو نشر کرتے ہوئے ہم نے اپنی سماجی اور ثقافتی اقدار کو ضرور ملحوظ خاطر رکھنا ہے، آپ کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتا ہوں، میڈیا صنعت کی ترقی اور فروغ کیلئے کوشاں رہینگے، ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے اداروں کو بہتر بنانا ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے اے پی این ایس ہائوس کے دورہ کے موقع پر اے پی این ایس کے اراکین کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اے پی این ایس کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل بشمول اشتہارات کے حجم میں اضافہ، اخباری صنعت کیلئے ریلیف پیکیج ،علاقائی اخبارات باالخصوص علاقائی زبانوں کی ترقی اور سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں اضافہ اور اشتہارات کے اجراء کے نظام میں شفافیت کیلئے مثبت اقدامات اٹھائے گی۔ اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکرٹری جنرل سرمد علی نے وزیر اطلاعات کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی کہ وزیر اعظم نے متعدد بار متعلقہ وزارتوں کو واجبات کی ادائیگی پر زور دیا جو ایک ارب روپے سے زائد ہیں لیکن اب بھی بڑی رقم واجب الادا ہے۔
hibli
