معروف علمی وصحافتی شخصیت، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مشیرعرفان صدیقی کے ساتھ ناروا سلوک کو ایک سال گزرگیا ہے۔آج تک انہیں گرفتار کرنے ، ہتھکڑی پہنانےاور اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں ڈالنے والوں کا تعین نہ ہوسکا۔ وزیراعظم سمیت تمام زمہ داروں نے ذمہ داروں کیخلاف مکمل تحقیقات کے واضح اعلانات کیے تھے۔ لیکن اس واقعے کی کوئی تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے۔ گزشتہ برس 26 اور27 جولائی کی درمیانی شب درجن بھرگاڑیوں میں آئے 20 سے زائد باوردی مسلح اہلکاروں اورسادہ لباس میں آئے افراد نے اسلام آباد میں عرفان صدیقی کے گھر چھاپہ مارکراس حال میں پکڑ کرگاڑی میں ڈال دیا کہ وہ رات کے لباس میں تھے اور پائوں میں رف چپل پہنے ہوئے تھے۔

Facebook Comments
