پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کری ایٹرز آزاد کشمیر کے آئی جی لیاقت ملک کی جانب سے صحافی حیدر شیرازی کے سوالات کے دوران مائیک چھیننے اور نامناسب طرزِ عمل اختیار کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان خیالات کا ظہار مرکزی صدر فرید رزاقی نے جاری اپنے بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے مائیک چھیننے سے سوال ختم نہیں ہوتا، سوال مزید بڑا ہوجاتا ہے ، سوال سخت ہوسکتا ہے، ناگواربھی ہوسکتا ہے، لیکن سوال کرنا صحافی کا جرم نہیں بلکہ اس کا پیشہ ورانہ فرض ہے۔پبلک آفس ہولڈرز کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عہدہ اختیار ضرور دیتا ہے، مگر سوال سے استثنیٰ نہیں دیتا۔ صحافی اگر عوامی مفاد کے معاملے پر سوال اٹھاتا ہے تو جواب مائیک چھین کر نہیں، دلیل اور جواب دہی کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔افسوس یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے بڑھتے ہوئے کلچر کی عکاسی کرتا جب "ہاں بھئی خریدا ہے" جیسے جوابات اور "آئندہ بھی کروں گی" جیسے رویے جواب دہی کی جگہ لے لیں تو پھر مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں رہتا، بلکہ ایک وسیع تر کلچر کی نشاندہی کرتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے رویوں کی صرف مذمت کافی نہیں؛ ان کی مرمت بھی ضروری ہے۔جواب دہی سے فرار، اختیار کا استعمال نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔ پی ایف یو سی واضح کرتی ہے کہ صحافی کے ہاتھ سے مائیک چھیننا دراصل عوام کے سوال کو روکنے کی کوشش ہے، اور ہم ایسی کسی روش کو قبول نہیں کریں گے۔ہم صحافی حیدر شیرازی کے حقِ سوال اور ان کے پیشہ ورانہ وقار کے ساتھ کھڑے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام پبلک آفس ہولڈرز صحافیوں کے ساتھ احترام، تحمل اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں۔ کیونکہ آپ زیادہ سے زیادہ مائیک چھین سکتے ہیں مگر سوال نہیں اور آواز دبا سکتے ہیں، سوال اٹھنے سے نہیں روک سکتے۔
47
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل