lapata sahafi ko adalat mein paish karne ka hukum

لاپتہ صحافی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم۔۔۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری گمشدگی کو بادی النظر میں آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے صحافی مدثر نارو سمیت پانچ لاپتہ افراد کو آئندہ سماعت پر عدالت پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ پانچ لاپتہ افراد کو پیش کریں ورنہ موجودہ اور سابق وزرائے داخلہ کو طلب کریں گے۔ سیکرٹری داخلہ بتائیں کیوں نہ موجودہ اور سابق وزرائے اعظم اور وزرائے داخلہ کیخلاف کارروائی کی جائے؟ کیا صدر مملکت اور گورنرز نے جبری گمشدگیوں کی سالانہ رپورٹس جمع کرائیں؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی حکومت کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو مطمئن کریں جبری گمشدگی ریاست کی پالیسی نہیں ہے۔ صحافی مدثر نارو سمیت پانچ لاپتہ افراد کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ چار سال‘ چھ سال‘ دس سال کے لاپتہ افراد کے کیسز اس عدالت کے سامنے ہیں‘ گزشتہ سماعت پر عدالت کو بتایا گیا کہ کچھ افراد کو پہلے لاپتہ رکھا جاتا ہے پھر کہا جاتا ہے حراست میں ہیں‘ ایسے لوگوں کو کون جوابدہ ٹھہرائے گا؟

chaar hurf | Imran Junior
chaar hurf | Imran Junior
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں