کے یوجے دستور الیکشن، دستور گروپ پر کیا بیتی؟؟

خصوصی رپورٹ۔۔

  کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے سالانہ الیکشن  2021 . 22 میں غیر جماعتی دستور پینل نے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اپنے حمایتی اراکین ووٹرز اور سپورٹرز  کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔۔دستورپینل  کے صدارتی امیدوار ناصر محمود سمیت تمام امیدواروں نے اپنے تہینتی پیغام میں کہا ہے کہ افسوس ناک امریہ ہے کہ دستور پینل کے امیدواروں ووٹرز اور سپورٹرز کو خوف وہراس میں مبتلا کیا گیا۔۔۔انہیں بےروزگار کر کے معاشی قتل ، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور اورکراچی پریس کلب سے ممبر شپ کا خاتمہ اور کے پی سی میں داخلے پر پابندی جیسی سفاکانہ دھمکیاں دی گئیں۔۔اس کے باوجود وہ انتخابی میدان میں ڈٹے رہے اور مقابلہ کیا۔۔ کے یوجے دستور کے انتخابی نتائج کے مطابق 1890 میں سے صرف 377 ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کیا۔۔دستور پینل کے صدارتی امیدوار ناصر محمود نے 67 نائب صدر طارق اسلم نے 67 انفارمیشن سیکرٹری سید سرمد عابد نے 55 ووٹ حاصل کئے۔۔ دستور پینل کے  ممبر ایگزیکٹو کونسل کے امیدواروں میں سے عبدالرحمن فاروقی نے 147 موسیٰ غنی نے 86 احسن گلزار جتوئی نے 77 جاوید صدیقی نے75 اور بلال خان جتوئی نے 72 ووٹ حاصل کئے۔۔جوکہ دستور پینل  اور دستور گروپ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے لئیے اطمینان بخش اور حوصلہ افزا ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ  دستور پینل کے سیکرٹری کے امیدوار عادل خان ظفر نے بدترین دھوکہ دیا۔۔جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پر  امیدوار کو الیکشن کمیٹی نے الیکشن لڑنے کا اہل قرار دے کر اس کا نام اہل  امیدواروں کی حتمی فہرست میں شامل کیا۔۔بعدازاں دستبرداری والے دن انہیں نااہل قرار دے دیا جو کہ الیکشن کمیٹی کی نا اہلی کی بدترین مثال ہے۔۔دستور پینل کے بعض امیدوار معاشی قتل کرنے اور بے روزگار کرنے جیسی دھمکیوں کی باعث کاغذات نامزدگی واپس لینے پر مجبور ہو گئے۔۔دستور پینل کے امیدوار جاوید صدیقی الیکشن مہم کے دوران حادثے کی باعث زخمی ہو گئے۔۔جبکہ سید سرمد عابد کی اہلیہ پولنگ والے دن علی الصبح اچانگ شدید بیمار ہو گئیں جس کی باعث وہ پولنگ والے دن نہیں آ سکے۔۔دستور گروپ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے چیئرمین عبدالجبار خان نے بھی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دستور پینل کو غیر جماعتی قرار دیا جارہا ہے، جس سے  کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور جماعتی اور غیر جماعتی دو حصوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔۔۔جوکہ ہمارے اور صحافیوں کے لئیے خوش آئند ہے اس سے ہمارے مشن کی تکمیل میں مزید آسانی اور تیزی آئے گی۔۔انہوں نے کہا کہ دستور گروپ کا مشن یہ ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور اور کراچی پریس کلب کوجماعتی لیبل سے آزاد کر کے غیر جماعتی کیا جائے۔۔انہوں نے  پی ایف یو جے دستور ، کے یو جے دستور اور کے پی سی کے تمام ممبرز کو یقین دلایا  کہ دستور گروپ  ان اداروں پر کسی بھی سیاسی ، مذہبی یا غیر سیاسی تنظیم  جماعت یا پارٹی کا لیبل نہیں لگنے دے گا اوران اداروں کو خالصتاً صحافیوں کے ادارے بنائے گا جو ان کے مفادات کے تحفظ کا ضامن ہوں گے۔۔چیئرمین دستور  گروپ ڈاکٹر عبدالجبار خان نے کہا کہ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم سیاسی ، مذہبی یا غیر سیاسی جماعتوں پارٹیوں کے اور تنظیموں کے مخالف ہیں۔۔اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔۔عبدالجبارخان،چیئرمین دستورگروپ ،کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور، فاؤنڈر ممبر پاکستان  فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور۔۔ناصرمحمود،صدارتی امیدوار دستورپینل،ڈپٹی چیئرمین،دستورپینل، کے یوجے دستور۔۔

ماہرہ خان نے آخرکار خاموشی توڑ دی۔۔
social media marketing
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں