سندھ کے سینئر وزیر و صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے بدھ کو کراچی پریس کلب کا دورہ کیا۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ کے ارکان نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے مجلس عاملہ کے ارکان سے ملاقات کی اور صحافی برادری کو درپیش مختلف مسائل سمیت کراچی پریس کلب کے فلاحی و انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے ہمیشہ آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے، صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے سندھ حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں پریس کلب کی قیادت کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔ملاقات کے دوران کراچی پریس کلب کی جانب سے بتایا گیا کہ خواتین ممبران کے لیے بلدیہ سعید آباد لائسنس برانچ میں اسکوٹی ڈرائیونگ کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا گیا، جس میں 64 خواتین نے ایک ہفتے کی ٹریننگ مکمل کرلی ہے۔اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے یقین دہانی کرائی کہ تربیت مکمل کرنے والی خواتین کے ڈرائیونگ لائسنس کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد انہیں اسکوٹیز فراہم کی جائیں گی تاکہ خواتین صحافیوں کو آمدورفت میں سہولت حاصل ہوسکے۔کراچی پریس کلب کی جانب سے 639 اراکین کی پلاٹوں کے حوالے سے ہونے والی بیلٹنگ سے بھی شرجیل انعام میمن کو آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ان اراکین کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کیے جائیں گے۔شرجیل انعام میمن نے خواتین صحافیوں میں اسکوٹیز کی تقسیم اور 639 پریس کلب ممبران کو پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز دینے کی دونوں تقریبات میں خود شرکت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت کے ’’سندھ وژن‘‘ پروگرام کے تحت سکھر اور تھرپارکر میں پروگرامز منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ مجوزہ پروگرام 15 سے 17 نومبر کے دوران منعقد ہونے کا امکان ہے، جس میں ملک بھر سے 150 سے زائد صحافیوں کو سکھر اور تھرپارکر مدعو کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے دوران صحافیوں کو سندھ میں جاری ترقیاتی اور دیگر منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی جبکہ مختلف موضوعات پر سیمینارز بھی منعقد ہوں گے۔ اس سلسلے میں کراچی پریس کلب سے تعاون اور انتظامی امور میں معاونت کی درخواست کی گئی۔ملاقات کے دوران سینئر صحافی مظہر عباس نے صحافیوں کو این سی سی آئی کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹسز اور انہیں طلب کیے جانے کے معاملے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے حکومت سندھ کی جانب سے بھی واضح مؤقف اور عملی اقدام سامنے آنا چاہیے۔مظہر عباس نے کہا کہ بعض معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور اس کے باوجود صحافیوں کو این سی سی آئی کے ذریعے نوٹسز جاری کرکے طلب کیا جارہا ہے، جس سے صحافی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ)، کراچی یونین آف جرنلسٹس (KUJs) اور پریس کلبز پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس معاملے پر اپنی سفارشات اور تجاویز حکومت سندھ کو پیش کرے، جن کا جائزہ لے کر حکومت ممکنہ اقدامات کرے گی۔انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر کوئی معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تو اسی معاملے پر صحافیوں کو کسی دوسرے فورم پر طلب کیے جانے کے معاملے کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنی تجاویز دے، سندھ حکومت ان سفارشات کی روشنی میں جو ممکنہ اقدامات کرسکتی ہے، وہ کیے جائیں گے۔شرجیل انعام میمن نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت صحافی برادری کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی اور صحافیوں و میڈیا سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مثبت انداز میں پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کراچی پریس کلب کی قیادت سے رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آزادیٔ صحافت کے لیے کام کیا ہے، پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے ہمیشہ صحافیوں کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، صحافی اور سیاسی جماعت ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنقید برداشت کی ہے۔شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ وژن کے حوالے سے بلاول بھٹو اور وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پہلے ہی بریفنگ دے چکے ہیں، محکمۂ اطلاعات نومبر میں سکھر اور تھرپارکر میں سندھ وژن پر کانفرنس کرنا چاہتا ہے جس میں پاکستان بھر کے صحافیوں کو مدعو کیا جائے گا، غیر ملکی صحافیوں کو بھی مدعو کر کے سندھ حکومت کے کام دکھائے جائیں گے۔
53
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل