کراچی پریس کلب کا سانحہ اور ہماری یادداشتیں

تحریر: احمد علی خان۔۔

کراچی پریس کلب میں رینجرز کی حالیہ کارروائ افسوناک بھی ہے اور شرمناک بھی، افسوسناک تو اس لئے کہ مجھے بھی اس کلب کے رکن ہونے کا شرف حاصل رہا ہے اور کبھی کسی نے بلا اجازت اس کی حدود میں داخل ہونے کی ہمت نہیں کی-اور شرمناک اس لئے کہ پے در پے ہم ایسی حرکتوں کا ارتکاب کئے جارہے ہیں جو ایک متمدن اور مہزب معاشرے کو زیب نہیں دیتیں- مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار پیپلز پارٹی کے دوراقتدار میں مولانا کوثر نیازی مرحوم نے ،جو اس زمانے میں وزیراطلاعت تھے، کراچی پریس کلب آنے کی بڑی کوشش کی اور ہمارے کچھ ساتھی انہیں بلانا بھی چاہتے تھے لیکن پریس کلب کی انتظامیہ نے اپنے ایک سابقہ فیصلے کی روشنی میں اجاازت نہیں دی، پھر مولانا نے تجویز پیش کی کہ کلب میں قوالی کی ایک محفل رچائ جائے اور اس میں مولانا بغیر اعلان کے آجائیں لیکن انہیں متنبہ کیا گیا اگر انہوں نے یہ حرکت کی اور کلب کے اراکین کی جانب سے کسی منفی ردِ عمل کا مظاہرہ ہوا تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہونگے، غرض مولانا اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کلب نہیں آسکے ، پھر جنرل ضیاء کا دور تھا بریگیڈیئر صدیق سالک کی کسی مجلس میں کلب کے سابق صدر اور بزرگ صحافی حضور احمد شاہ مرحوم کی ملاقات ہوگئ ، وہ انہیں اپنے ساتھ کلب لے آئے اتنے میں عبدالحمید چھاپرا کلب کی عمارت سے نکلے اور انہوں نے شاہ جی سے درخواست کی کہ وہ اپنے مہمان کو باہر چھوڑ کر آئیں اور صدیق سالک اور شاہ جی فورآً کلب سے باہر چلے گئے، میں جو وہاں کھڑا تھا اور صدیق سالک سے ان کی میجری کے زمانے سے واقف تھا میری بھی چھاپرہ کے اس فیصلے پر ایں و آں کرنے کی ہمت نہیں ہوئ – یہی نہیں پریس کلب کی نگرانی پر پولیس کے ایک انسپکٹر نیازی معمور تھے ، سادہ کپڑوں میں کلب کے گیٹ پر بیٹھے رہتے ، وہ ہم سب سے واقف تھے لیکن ان کی کبھی یہ ہمت نہیں ہوئ کہ وہ گیٹ میں داخل ہوجائیں اگر پانی بھی پینا ہو تو چوکیدار یا کسی سےکہتے کہ ایک گلاس پانی بھجوا دیجئے ، ایک بار ضیاء کے دور میں ہماری تحریک چل رہی تھی ہر وقت کلب میں جلسے وغیرہ ہوتے رہتے، ادھر کلب کی دیوار سے لگے ہوئے پولیس والے کارروائ رپورٹ کرتے رہتے- اتفاق سے ایک دن ایک جلسے میں سادہ لباس میں کوئ پولیس والا چپکے سی اندر آگیا اور پکڑا گیا، نظام صدیقی مرحوم اور اقبال جعفری مرحوم اسے پکڑ کر باہر نیازی کے پاس لے گئے ،نظام صدیقی نے ذرا دھمکی آمیز انداز میں کہا ’ نیازی اگر اب کوئ اندر آیا تو اسکو وہیں ضبح کردیں گے ‘ نیازی نے اس بندے کو ایک زور کا تھپڑ مارا اور کہا میں نے منع کیا تھا پھر کیوں گیا اور نظام صدیقی سے کہا دیکھو نظام بھائ اب ہمارا کوئ بندہ اندر نہیں جائے گا لیکن یہاں 17 ایجنسیاں ہیں ان کی ہم ذمہ داری نہیں لیتے۔۔

(پریس کلب میں رینجرز کی ریہر سل پر سینئر صحافی علی احمد خان کانکتہ نظر جو فیس بک وال سے لیاگیاہے)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں