کراچی میں صحافی سڑکوں پر نکل آئے، گورنر ہاوس کے باہر دھرنا۔۔

ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے، سرکاری اور نجی میڈیا ہاوسز سے ملازمین کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تاخیر سے ادائیگی، اٹھویں ویج ایوارڈ کے نفاذ، صحافیوں کو ہراساں اور اغوا کیے جانے اور نیوز چینل کی بندش کیخلاف کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت کراچی پریس کلب سے گورنر ہاوس تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور گورنر ہاوس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا گیا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر ملک گیر احتجاج کے موقع پر کراچی میں بھی کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت بھرپور احتجاج کیا گیا جس میں دیگر صحافی اور مزدور تنظیموں، ڈاکٹرز، وکلا اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔ احتجاج کے شرکا کراچی پریس کلب سے ایک ریلی کی شکل میں گورنر ہاوس پہنچے اور گورنر ہاوس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا شرکا کا جوش و خروش قابل دید تھا وہ اپنے مطالبات کے حق میں زبردست نعرے بازی کرتے رہے جبکہ انہوں نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھارکھے تھے جن پر مختلف مطالبات درج تھے۔ گورنر ہاوس کے باہر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے صحافی، مزدور اور سول سوسائٹی کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اسی وقت آگے بڑھ سکتی جب صحافت آزاد اور صحافی محفوظ ہوں آج پاکستان میں قلم اور کیمرے کا مزدور جن مسائل کا شکار ہے وہ حکومت اور میڈیا مالکان کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے میڈیا انڈسٹری میں مصنوعی بحران کے نام پر ورکرز کو جبری برطرف کیا جارہا ہے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تاخیر سے ادائیگی معمول بن گئی ہے صحافیوں کو ایف آئی اے اور پولیس کے ذریعے مقدمات قائم کرکے اور اغوا کرکے ہراساں کیا جارہا ہے 24 نیوز چینل کی بندش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے حکومت تنقید برداشت نہیں کرسکتی لیکن ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ سکتی ہے مقررین کا کہنا تھا کہ یہ صحافی تحریک مزدور حقوق کی جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جسے دیگر مزدور تنظیموں، وکلا، ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی کی بھی حمایت حاصل ہے یہ تحریک اپنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی مقررین نے آٹھویں ویج ایوارڈ کے نفاذ میں غیرمعمولی تاخیر اور واجبات کی عدم ادائیگی پر میڈیا مالکان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا مقررین کا کہنا تھا کہ میڈیا مالکان نے ملازمین کے خون پسینے سے ایمپائرز کھڑی کرلی ہیں لیکن وہ ملازمین کو ان کے حقوق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن یہ سلسلہ اب زیادہ عرصے نہیں چل سکے گا قلم اور کیمرے کے مزدور دیگر مزدوروں کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کی جدوجہد کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور ہمیں اپنے حقوق حاصل کرنا بخوبی آتا ہے مقررین نے پی ٹی وی سے ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ اور واجبات کی عدم ادائیگی ریڈیو پاکستان سے جبری برطرفیوں کی بھی شدید مذمت کی اور حکومت سے برطرف ملازمین کی بحالی اور ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا احتجاجی دھرنے سے کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی، جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی، پاکستان بار کونسل کے رکن یاسین آزاد، پی ایم اے پاکستان کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد، پائلر کے رہنما سید کرامت علی، پیپلز لیبر بیورو کے صدر حبیب جنیدی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ناصر منصور، معروف مزدور رہنما لیاقت ساہی، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی رہنما زہرہ خان، کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران، ایپنک کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبیداللہ، جنگ ایمپلائز یونین سی بی اے کے جنرل سیکریٹری اور ایپنک کے سیکریٹری جنرل شکیل یامین کانگا، دی نیوز ایمپلائز یونین سی بی اے کے جنرل سیکریٹری دارا ظفر، جاوید پریس ایمپلائز یونین کے جنرل سیکریٹری رانا یوسف، روزنامہ ڈان کی ہیرالڈ ورکرز یونین سی بی اے کے جنرل سیکریٹری رشاد محمود، قومی اخبار ایمپلائز یونین سی بی اے کے قائمقام صدر راو عمران اشفاق اور جنرل سیکریٹری عرفان ساگر، 72 روز سے بندش کا سامنا کرنے والے نیوز چینل 24 کے بیورو چیف آصف جعفری، نوائے وقت ورکرز ایکشن کمیٹی کے رہنما الطاف مجاہد، ایسوسی ایشن آف کیمرہ مین جرنلسٹس کے صدر محمد کاشف،پی ٹی وی ورکرز ایکشن کمیٹی کے رہنما محمود انور خان، ریڈیو پاکستان ورکرز ایکشن کمیٹی کی رہنما سیما رضا، کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر سمیر قریشی، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر جاوید سلطان جدون کے ایم سی سجن یونین کے چیئرمین سید ذوالفقار شاہ اسٹیل مل کی پیپلز ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری سید حمیداللہ ودیگر نے خطاب کیا احتجاجی دھرنے کے اختتام گورنر ہاوس کے نمائندے کو کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کی گئی۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں