سندھ ہائیکورٹ نے صحافیوں اور فورسز پر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سے متعلق درخواست پر محکمہ داخلہ سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون تک جواب طلب کرلیا۔سندھ ہائیکورٹ میں صحافیوں اور فورسز پر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت درخواستگزار صحافی عمیر علی انجم نے موقف اختیار کیا کہ شاپنگ مالز ، مارکیٹ کھول گئے ہیں مگر صحافیوں پر ڈبل سوار پر پابندی تاحال جاری ہے صحافیوں پر ڈبل سواری پر پابندی پر نوکریوں کو خطرہ ہے،صحافی کم تنخواہ میں رکشہ اور گاڑیوں کا کرایہ ادا نہیں کر سکتے لہذا پابندی ختم کردی جائے عدالت نے سندھ حکومت کو صحافیوں اور فورسز پر ڈبل سواری پر پابندی سے متعلق نظر ثانی کا حکم دیا تھا مگر محکمہ داخلہ سندھ نے نظر ثانی کے بجائے نیا نوٹیفکیشن جاری کرکے فورسز اور صحافیوں پر پابندی عائد کردی ملک بھر میں لاک ڈان مکمل طور پر نرمی کردی گئی ہے، شاپنگ مال اور تمام تجارتی مراکز کھول دیے گئے ہیں صحافیوں اور فورسز پر موٹر سائیکل پر پابندی قانونی اور انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کے آپ کی درخواست کی وجہ سے آدھا کام تو ہوگیا ہے سندھ حکومت نے عدالتی حکم کی روشنی میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سے پابندی تو ختم کردی ہے، سندھ حکومت کا آرڈیننس آچکا ہے اب کوئی میڈیا ہاوس ملازمین کو برطرف کرتا ہے تو ان کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع کیا جاسکتا ہے،کمرہ عدالت میں درخواستگزار نے مزید موقف اختیار کیا کہ آرڈیننس کے باوجود مختلف اداروں سے ملازمین کو ملازمت سے نکالا جارہا ہے،جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کے سندھ حکومت آرڈیننس پر عملدرآمد کرانے کی پابندی ہے جو ادارہ ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،جبکہ عدالت نے درخواست پر محکمہ داخلہ سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون تک جواب طلب کرلیا۔۔۔
جو میڈیاہاؤس برطرفیاں کرے گا،کارروائی کرینگے، سندھ ہائی کورٹ۔۔
Facebook Comments
