جعلی صحافیوں سے نجات ناگزیر 15

جعلی صحافیوں سے نجات ناگزیر

تحریر: شیراز خان
صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، لیکن افسوس کہ آج اس مقدس پیشے کو کچھ خود ساختہ اور غیر تربیت یافتہ افراد نے تماشہ بنا دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس نہ تعلیم ہے، نہ تربیت، نہ کسی مستند ادارے کا تجربہ، مگر خود کو "سینئر صحافی" کہلوانے میں سب سے آگے ہیں۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ عناصر اپنے ہی پیٹی بھائیوں، بالخصوص فیلڈ میں کام کرنے والے کرائم رپورٹروں کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد خبریں پھیلا کر صحافت کو بدنام کر رہے ہیں۔
صحافی کے لیے تعلیم کتنی ضروری ہے؟
دنیا بھر میں صحافت کے لیے کم از کم انٹرمیڈیٹ اور زیادہ سے زیادہ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز یا مساوی ڈگری کو معیار سمجھا جاتا ہے۔ ڈگری کے ساتھ ساتھ خبر لکھنے، تحقیق، اخلاقیات اور قانون کی سمجھ بوجھ لازمی ہے۔
تصدیق کا نظام کیوں ضروری ہے؟
میری رائے میں ہر صحافی کی تعلیمی اسناد کی متعلقہ بورڈ اور یونیورسٹی سے تصدیق ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی چیک ہونا چاہیے کہ:
1. وہ کس رجسٹرڈ اخبار یا چینل سے منسلک ہے؟
2. کیا اس کا ادارہ ڈی جی پی آر سے رجسٹرڈ ہے؟
3. کیا وہ کسی رجسٹرڈ صحافتی تنظیم کا ممبر ہے؟
4. اس کی شائع شدہ خبریں، کالم، ہیڈ لائن، پٹی، دو کالمی خبر کا ریکارڈ کہاں ہے؟
5. الیکٹرانک میڈیا میں کام کا دعویٰ کرنے والا اپنا پیکج، لائیو، بیپر دکھائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اکثر خود کو "تیس مار خان" کہنے والوں کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ نہ انہوں نے کسی استاد کی شاگردی اختیار کی، نہ کسی بیٹ میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے واٹس ایپ پر خود ساختہ گروپ اور غیر رجسٹرڈ تنظیمیں بنا رکھی ہیں جن کا کسی سرکاری ریکارڈ میں وجود تک نہیں۔سوال سیدھا ہے: آپ نے ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ کس رجسٹرڈ ادارے میں کتنا عرصہ کام کیا؟ آپ کی صحافتی پہچان کیا ہے؟
بات سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ اگر ہم نے آج جعلی صحافت کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو کل اصل صحافی اور جعلی میں فرق مٹ جائے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ مستند صحافتی تنظیمیں، ڈی جی پی آر اور ادارے مل کر اسناد کی چھان بین کا نظام نافذ کریں، تاکہ قلم کی حرمت بحال ہو اور صحافت پھر سے سچ کی آواز بنے۔(شیرازخان)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں