جبری برطرفیاں،تنخواہوں میں تاخیرکے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان۔۔۔ 21

جبری برطرفیاں،تنخواہوں میں تاخیرکے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان۔۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یوجے) نے ملک بھر میں آزادیٔ صحافت پر بڑھتے ہوئے حملوں، میڈیا ہاؤسز سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔امکان ہے کہ تین نومبر سے اس کا آغاز کراچی سے کیا جائے گا۔۔ کراچی پریس کلب میں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام ایک مشاورتی اجلاس میں جس کی صدار ت صدر پی ایف یوجے افضل بٹ کررہے تھے،اس اجلاس میں ملک گیر احتجاجی تحریک کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔۔صحافی رہنماؤں صدر کے یوجے طاہر حسن خان، سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری، جاوید چودھری، سلیم شاہد، عبدالجبار ناصر، اطہر حسین شاہ، ایپنک کے رہنماؤں عبیداحمد، عرفان، اینکر پرسن مجاہد بریلوی ، خاتون صحافی فرزانہ علی، امتیاز خان فاران، لیاقت مغل،سمیت دیگر صحافیوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں، اس موقع پر سینئر صحافی آغا خالد، عامر شیخ،سہیل شبیر نے میٹرو ون نیوز کی بندش اور صحافیوں کی بیروزگاری کا بھی ذکرکیا۔۔ عوام اخبار کی یونین کے عہدیداران نشید آفاقی اور عارف ہاشمی نے بھی آئی ٹی این ای میں ملازمین کے کیسز کے حوالے سے بات کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی ایف یوجے افضل بٹ نے بتایا کہ احتجاجی تحریک ملک گیر ہوگی، تمام بڑے شہروں میں بھوک ہڑتالی کیمپ، دھرنا اور احتجاج کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے مکمل شیڈول کا اعلان پی ایف یوجے کی جانب سے باہمی مشاورت کے بعد جاری کیا جائے گا۔۔پی ایف یو جے کے اس فیصلے کا مقصد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ، آزادیٔ صحافت کے فروغ اور میڈیا اداروں میں ملازمین کو درپیش معاشی و پیشہ ورانہ مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔یونین کے مطابق صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں، تنخواہوں کی طویل عرصے تک عدم ادائیگی اور مزدور قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے جیسے مسائل نے میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔پی ایف یو جے نے ان مسائل کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک چلانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ احتجاجی سرگرمیوں کے شیڈول، طریقۂ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تفصیلات کا اعلان تنظیم کی جانب سے باضابطہ طور پر کیے جانے پر سامنے آئیں گی۔مشاورتی اجلاس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں خواتین صحافیوں کی بھی اکثریت تھی۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں