teeno bureau ki waja se zindagi jannat hai

اقرارالحسن کے نام ، ایک پیغام۔۔

تحریر: اسعد نقوی۔۔

 ویڈیو آپ سب نے دیکھی ہو گی اقرار کا وضاحتی بیان بھی سنا ہوگا وضاحت کے ساتھ اقرار یہ کہہ رہا ہے کہ میری جگہ آپ ہوتے تو آپ بھی یہی کرتے تو اقرار الحسن کو میرا پیغام بطور صحافی ۔۔۔۔

آپ صحافی ہیں ۔ آپ باشعور ہیں ۔  کرائم شوز میں بھی کرتا اور لکھتا ہوں بہت سارے مقامات پر ہمارے جذبات یہی ہوتے ہیں کہ ایسے گھناؤنے جرم کرنے والے۔ شخص کو ماریں لیکن ہمیں نہ صحافتی اقدار اجازت دیتی ہیں نہ یہ ہمارا کام ہے  ہم کسی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتے ۔یہ کام اعلیٰ عدلیہ کا یے آپ جانتے ہیں کہ اتنے ہجوم میں آپ کا ایسا عمل دیگر افراد کو بھی جرم کرنے اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر اکسائے گا۔۔۔اگر آپ کے تھپڑ کے بعد ہجوم بے قابو ہوجاتا اور اس پر اتنا تشدد کرتا کہ وہ مرجاتا  تو کون ذمہ دار تھا ۔یاد رکھیے وہ ملزم یے وہ چاہے تو آپ کو انٹرویو بھی نہ دے ۔ آپ زبردستی انٹرویو بھی نہیں لے سکتے آپ مارنے کی بات کرتے ہیں ۔ صحافتی قوانین و اقدار آپ کو اس عمل کی ذرا بھی اجازت نہیں دیتے نہ آپ فیصلہ کر سکتے ہیں۔اپ کے پاس جتنے بھی ثبوت ہوں  فیصلہ عدلیہ نےہی کرنا ہے آپ کا رویہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آپ نے فیصلہ کرکے ملزم کو مجرم مان کر تھپڑ بھی رسید کر دیا۔۔۔۔۔ اگر آپ کو کوئی تھپڑ لگائے تو صحافت پر حملہ اور اگر آپ لگائیں تو پھر کیا وہ قانون پر حملہ نہیں یے ؟  آپ بطور صحافی وہاں گئے اور آپ اس شخص کا انٹرویو کر رہے ہیں آپ کے پاس کیا الفاظ ختم ہوگئے جو ہاتھ چلانے شروع کر دیے باشعور اور پڑھے لکھے صحافی اور عام شخص میں کیا فرق ہے کیا آپ کی ذمہ داری نہیں کہ اس شخص کو قانون کے حوالے کیا جائے نہ کہ خود جج بن کر سزا سنا کر سزا دی جائے ۔۔ اقرار صاحب اس وقت آپ صحافی نہیں بلکہ خود شریک ملزم ہیں قانون کی نظر میں آپ نے جرم کیا یے تشدد کرنے کا۔۔۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہوسکتا ہے آپ کے پاس اس شخص کے خلاف ثبوت ہوں وہ اپنے گھناونے جرم کا اعتراف بھی کرتا ہولیکن آپ صحافی ہیں جج نہیں۔ کیا ریٹنگ کے لیے ملزمان پر تشدد کیا جا سکتا یے؟ کیا آپ  فیصلہ سنانے اور فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں ۔ آپ کا کام موقف لینا اور اپنی رائے دینا ہے فیصلہ سنانا یا تشدد کرنا نہیں ۔اپ کے خلاف مقدمہ درج ہوسکتا ہے کہ آپ نے عوام کو تشدد پر اکسایا ہے اس شخص کی جان کو خطرہ تھاجبکہ ابھی اس کا جرم ثابت نہیں ہوا۔۔

میری پیمرا سے بھی یہی درخواست ہے کہ فیصلہ سنانا عدلیہ کا کام ہے ایسے غیر صحافتی عمل پر نوٹس لے تاکہ صحافتی اقدار قائم رہ سکیں۔۔(اسعد نقوی)۔

(یہ تحریر لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی اسعد نقوی کی وال سے لی گئی ہے، اوراحباب کی دلچسپی کےلئے پیش کی جارہی ہے، اس کے مندرجات سے عمران جونیئر ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں