تحریر: علی عمران جونیئر۔۔
کافی عرصہ ہوا ہم نیوزکے حوالے سے کوئی تفصیلی بلاگ تحریر نہیں کرسکا۔۔درمیان میں کوویڈ،لاک ڈاؤن وغیرہ کے مسائل کا سامنا رہا، پھر ذاتی مصروفیات کچھ ایسی تھیں کہ دھیان ویب سائٹ کے کاموں سے ہٹا رہا اور میری ٹیم کام کرتی رہی۔۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد کا چکر لگا تو خبروں کا پٹارہ بھرگیا۔۔ درجنوں ملاقاتیں ہوئیں، وقت کم تھا اس لئے کئی دوست ایسے تھے جن سے صرف فون پر بات ہوسکی ملاقات کا ٹائم نہ نکل سکا۔۔ اسلام آباد جاکر ہم پر انکشاف ہوا کہ ۔۔ ویب سائیٹ سے ہم ماہانہ دس لاکھ روپے کمارہے ہیں اور اسی وجہ سے کہیں جاب بھی نہیں کررہے۔۔ ہمیں یہ بھی پتا لگا کہ ہم نیوز کے متعلق خبریں اس لئے نہیں دے رہے کہ وہاں آپ کے (یعنی بقلم خود میرے) دوست ڈائریکٹر نیوز لگ گئے ہیں اس لئے آپ مروت کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں، ورنہ وہاں سے سات کیمرہ مین نکالے گئے، کئی ایسے مزید واقعات ہوئے جن کی خبر بنتی تھی لیکن عمران جونیئر ڈاٹ کام پر کوئی خبر موجود نہیں تھی۔۔پہلی والی بات تو بالکل لغو اور انتہائی جھوٹ پر مبنی ہے۔۔ دوسری بات بالکل ٹھیک ہے لیکن اس حد تک کہ ہم نیوزکے حوالے سے کئی خبریں مس ہوئیں جو نہیں ہونی تھیں، اس میں سارا قصور میرا ہے کیوں کہ خبریں مجھ تک پہنچ رہی تھیں لیکن مجھے بنا کر اپنی ٹیم کے حوالے کرنے کا ٹائم نہیں مل رہا تھا۔۔ میرے تمام قریبی جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ خبرکے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، خبر ہو تو لازمی دینی ہے، دوستی یاری اپنی جگہ۔۔ وہ کام سے ہٹ کر ہے۔۔ جو کام آپ کررہے ہیں کرتے رہیں لیکن جو کام میں کررہا ہوں مجھے بھی کرنے کا حق ہونا چاہیئے۔۔ جس طرح مجھے آپ کے کام پر اعتراض نہیں اس لئے کسی کو میرے کام پر بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔۔
چلیں اب کام کی باتیں ہوجائیں۔۔ بالی وڈ اسٹار سنی دیول کا مشہور ڈائیلاگ ہے کہ۔۔تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ اور تاریخ پہ تاریخ جب کہ ہم نیوز کا معروف اقدام ہے کہ غلطی پہ غلطی، غلطی پہ غلطی اور غلطی پہ غلطی۔گزشتہ کچھ عرصے سے ہم نیوز کے ملازمین پہ یا تو چھانٹی کی تلوار لٹک رہی ہے اور یا پھر انہیں تنخواہوں میں کمی کی ’نوید‘سننے کو مل رہی ہے۔ اس کے لیے انتظامیہ کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ادارے کے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے تو یہ ’خوشخبری‘ خود ڈی این صاحب بھی لوگوں کو سناتے آئے ہیں مگر حیرت انگیز طور پر اپنے زیر سایہ ’پلنے والے‘ ایک ایسے صاحب کی طرف ان کی توجہ قطعی نہیں جاتی ہے جو کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے کی زندہ مثال ہیں۔یہاں ہماری مراد ڈیجیٹل کے نئے انچارج سے ہے، جو کئی ماہ سے کافی پرکشش پیکیج تو وصول کررہے ہیں لیکن کام دھیلے کا نہیں کرتے۔۔پپو کے مطابق یہ صاحب کراچی میں بیٹھتے ہیں اور ایک لفط اردو لکھنے سے بھی ’ معذور‘ ہیں۔ ابتدا میں کہا گیا تھا کہ وہ انگریزی ڈیجیٹل کے انچارج بنا کر لائے گئے تھے۔ لطیفہ یہ ہے کہ انگریزی کی ویب سائٹ میں کام کرنے کے لیے ایک شخص بھی ملازم نہیں تھا اور نہ اب تک کسی کو رکھا گیاہے مگر اس کا ہیڈ بھاری پیکج پر گزشتہ کئی ماہ سے اپنا ’نامعلوم‘ چورن بیچ رہا ہے ۔
شروع میں انہوں نے کچھ لوگوں کو بتایا کہ وہ ہم نیوز کے نہیں بلکہ پورے ہم نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے انچارج ہیں کیونکہ ان کی پرچی کافی مضبوط تھی اس لیے بعض لوگوں کو یقین بھی آگیا اسکے بعد جب وہ تکیہ نہیں رہا جس پر آسرا تھا تو اب کافی دنوں سے وہ بتارہے ہیں کہ وہ ڈی این صاحب کے آدمی ہیں۔یہ چورن بھی کچھ اس لیے بکا کہ وہ اور ڈی این صاحب ایک ہی ادارے سے آئے ہیں۔
اب تو نئے ڈیجیٹل انچارج سے متعلق کراچی آفس والے بھی اسلام آباد سے اندرون خانہ یہ سن گن لے رہے ہیں کہ ان کا کام کیا ہے؟ اسلام آباد والوں کاجواب ہوتا ہے، ہمیں نہیں معلوم،آپ کو پتہ ہوگا وہ کراچی میں ہی بیٹھ رہے ہیں۔۔ان کی حالت یہ ہے کہ جس دن ڈی این صاحب کسی خبر میں غلطی کی نشاندہی کردیں اور یا خبر نہ لگنے کی شکایت کریں تو انچارج صاحب اس کے بعد مصرعہ اٹھانے والے کی طرح کلاسیں لینا شروع کردیتے ہیں مگر کبھی ڈی این صاحب نے یہ نہیں معلوم کیا کہ وہ سارا دن کرتے کیا ہیں؟ انچارج صاحب کی “باخبری”کایہ عالم ہے کہ کسی بھی خبر کے متعلق گروپ میں لکھ کر معلوم کرتے ہیں کہ یہ لگی ہے یا نہیں ؟ خود ویب سائٹ کھول کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کرتے ہیں جو کسی بھی ویب سائٹ سے متعلق شخص کے لیے انتہائی شرم کا مقام ہے۔ بے چارگی کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی خبر کی بابت ان کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ لگی ہے یا نہیں؟ موصوف اکثرو بیشتر لگی ہوئی خبروں کے متعلق کسی اور کے ٹوئٹ بھیج رہے ہوتے ہیں اور چونکہ صحافت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے بے چارے نہ خبر کے متعلق جانتے ہیں اور نہ ہی جاننے کے خواہش مند ہیں مگر اس کا ذمہ دارانچارج نہیں بلکہ ادارہ ہے جو کبھی ’اوچھے‘ کی شکل میں صحافت سے نا بلد شخص کو سربراہ بنا کر لاتا ہے تو ڈپٹی ہیڈ کے طور پر “ٹکرز “جوڑنے والے کو لے آتا ہے جو بے چارہ خبریں بھی ٹکر زجوڑ جوڑ کر بناتا تھا۔
اس ڈپٹی ہیڈ کی کوالٹی اتنی زیادہ تھی کہ خود درید صاحب نےایک بار کہا تھا کہ وہ ایک دن کے لیے بھی اس کو برداشت کرنے کو تیار نہیں مگر آپ اس کی “بیک” دیکھیں کتنی مضبوط ہے؟ یعنی مالک کے کلیئر کٹ حکم کے باوجود وہ اپنی مخصوص لابی کی بنیاد پر سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر ہو گیا اور آج کنٹرولر نیوز کے جانے کے بعد نیوز روم میں آل ان آل ہیں۔ہم نیوزکے نیوز روم میں یہ بات پوائزن کی خوشبو کی طرح پھیلی ہوئی ہے کہ کبھی ڈی این صاحب ان کے ذریعے احکامات دینے کے بجائے خود ان سے کوئی کام کراکر دیکھ لیں تو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ کیونکہ ان کا کام صرف اتنا ہے کہ بڑے صاحب کے احکامات آگے پہنچادیں۔ وگرنہ کام کے حوالے سے فارغ ہیں۔ اگر کبھی کوئی ان کی بنائی ہوئی خبر چیک کرنا چاہے تو گھوڑا اور میدان دونوں حاضر ہیں۔۔ قلعی نہ کھل جائے تو ہمیں کہیئے گا کہ آپ کے بس کی نہیں صحافت۔۔اس وقت ڈپٹی ہیڈ کا شمار اسائنمنٹ ڈیسک کی صفوں میں کیا جاتا ہے لیکن کام دوسرے کرتے ہیں، ان کی صرف خانہ پری چل رہی ہے وہاں۔۔پپو کا کہنا ہے کہ یہ بھی مخصوص لابی کے پروردہ ہیں اور کراچی میں فارغ رہ کر بھاری معاوضہ وصول کرنے والے کے ساتھی ہیں۔
اسی ادارے میں ایک ایسے صاحب کو بھی ڈیجیٹل کا سربراہ بنایا گیا کہ جنہوں نے کبھی کسی ادارے میں ملازمت نہیں کی تھی اور زندگی کی پہلی خبر یہاں آکر بنائی تھی لیکن چونکہ بہترین یس مین تھے تو چیف صاحب کو بھا گئے تھے اور ان کے سر پہ ہما بیٹھ گیا تھا۔صحافت اور خبروں سے نا بلد فیس بک کے دانشور کو سربراہ بن کر ایک سرٹیفکٹ درکار تھا جو انہوں نے حاصل کیا اور پھر جو ان کی منزل تھی وہاں پہنچ گئے۔۔فیس بک کے دانشور کی دانشوری کا راز تو موجودہ ڈی این پر اس دن کھل گیا تھا جس دن انہوں نے ان سے پوچھا تھا کہ کوئی اپنی تحقیقی خبر دکھا دیں تو بے چارے کو سانپ سونگھ گیا تھا۔
لیکن چونکہ وہ اپنا ٹارگٹ حاصل کرچکے تھے اسلیے استعفیٰ دے کر پتلی گلی سے نکل گئے۔اسی وجہ سے موجودہ ڈی این نے ڈیجیٹل کو نالائق لوگوں کا جمعہ بازار سمجھا۔۔موجودہ ڈیجیٹل کے سربراہ کا ان سے بھی برا حال ہے کیونکہ وہ بے چارہ تو نہ خبر جانتا ہے اور نہ ہی لکھنے سے واقف ہے بلکہ بعض دفعہ جب جب اس نے سرخی بنا کر لکھوائی تو خبر کا بیڑا غرق ہی کرگیا۔پپو کے مطابق نئے انچارج نے البتہ اوچھے والی سرکار کی حکمت اپناتے ہوئے کوشش کی کہ نئے اور جونیئر لوگوں کو ہیڈ بنا دے جیسے کہ ماضی میں انتہائ جونیئر لڑکی کو ہیڈ بنا کر کیا گیا تھا مگر چونکہ تحریری طور پر کچھ نہیں تھا اس لیے وہ بے چاری استعفیٰ دے کر چلی گئی تھی کہ شدید صدمے میں تھی۔ تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے موجودہ جونیئر نے کہا کہ اگر انچارج بنانا ہے تو آفس آرڈر دلوادیں جو وہ نہ دلوا سکے تو دو دوسرے افراد پر کوشش شروع کردی ہے۔
اس وقت ڈیجیٹل کی حالت یہ ہے کہ ایک سربراہ کراچی والا انچارج ہے جو عضو معطل کی طرح معلق ہے اور نامعلوم چورن بیچ کر ماہانہ بھاری تنخواہ وصول کررہا ہے۔دوسرا سربراہ ماضی کا ڈپٹی ہیڈ ہے جو آئے دن مختلف پیغامات کے ذریعے اپنی افسری ظاہر کررہا ہوتا ہے لیکن اپنی جگہ پرکیا کام کرتا ہے یہ اس کے دیگر ساتھیوں سے معلوم کرنے کی ضرورت ہے؟ ڈی این صاحب خود ہی پوچھ لیں تو بہتر ہوگا۔یہ صاحب ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے میں انٹرویو دینے بھی گئے تھے مگر منتخب نہیں ہو سکے تھے جس کی اطلاع پپو نے بھی دی تھی۔اب ڈیجیٹل کا ایک اور سربراہ بھی سامنے آیا ہے جو اوچھے سرکار کی دین ہے۔ یہ ابتدا میں مختلف کمپیوٹروں کے ذریعے جس طرح ریٹنگ بڑھاتا تھا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ خبروں سے نا بلد یہ بھی سارا دن مختلف شخصیات کو بتاتا ہے کہ وہی ڈیجیٹل کا سربراہ ہے حالانکہ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔خبروں اور پروگراموں کو لائیو کرنے والا کیسے ڈیجیٹل کا سربراہ ہو سکتا ہے ؟ پپو کے مطابق فیس بک کے دانشور کے دور اقتدار میں یہ خود بخود لائیو کا سربراہ بن گیا تھا وگرنہ یہ ڈیجیٹل کا حصہ تھا اورارسلان بختیار سمیت اوچھے سرکار کے دور میں بھی یہ ڈیجیٹل کا حصہ تھا۔ڈی این صاحب جو واقعی ڈیجیٹل میں بہتری کے خواہش مند ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ارد گرد نظر ماریں اور یہ دیکھ لیں کہ دیگر اداروں میں ڈیجیٹل کا سربراہ کیا کوئی غیر صحافی ہے؟بنیادی طور پر ڈیجیٹل کا تعلق صحافت سے ہے اور غیر صحافی اس کا بیڑا غرق تو کرسکتا ہے پروان نہیں چڑھا سکتا؟
اب بات کرتے ہیں کورونا کی۔۔اسلام آباد میں چونکہ کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے، ہم نے عمران جونیئر ڈاٹ کام پر ہم نیوز کے ایچ آر ہیڈ سمیت کئی لوگوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر بھی بریک کی تھی۔۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہم نیوز میں کورونا کی وجہ سے ایچ آر اور کری ایٹیو کے شعبے بند ہیں اور ورک ایٹ ہوم یعنی گھر سے کام کی پالیسی پر عمل درآمد ہورہا ہے۔۔ڈی این صاحب نے 15 نومبر کو گروپ میں پیغام دیا تھا کہ ڈیجیٹل والے بھی کل سے ورک ایٹ ہوم کریں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دو سربراہان کی ڈیوٹی لگائی تھی لیکن تاحال دونوں نے اس حوالے سے کچھ بھی نہیں بتایا ہے اور نہ لوگوں کو ورک ایٹ ہوم کا کہا ہے حالانکہ سب پہلے بھی گھر سے کام کرتے رہے ہیں تو تجربہ کار ہیں۔
بنیادی طور پر ڈیجیٹل ایک ایسی جوان بیوہ کا روپ دھار گیا ہے کہ جس کے آنگن میں محلے کا ہر اوباش شخص کودنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ معلوم کرنا بھی ڈی این صاحب کا کام ہے جو اتنا زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔ اس وقت خود ڈی این صاحب، کراچی والا انچارج اور ڈپٹی ہیڈ المعروف ٹکرز والی سرکار ڈیجیٹل کے کسی نہ کسی انداز میں سربراہ ہیں جب کہ کام کرنے والے افراد کی تعداد صرف چھ ہے۔ بعض اوقات تو ورکر ایک ہوتا ہے لیکن اس پہ سوار تین افسران ہوتے ہیں۔۔پپو نے ڈی این صاحب کو کھلا چیلنج دیا ہے کہ جس طرح فیس بک کا دانشور اپنی کوئی ریسرچ خبر نہیں دکھا سکا تھا بالکل اسی طرح ایک خبر بھی کراچی والے انچارج کے نامہ اعمال میں نہیں ہے۔ ڈی این صاحب جب چاہیں چیک کرلیں۔ اور ہاں، یہ بھی دیکھ لیں کہ چار دن ہوگئے ہیں ڈی این کے پیغام کو لیکن تاحال ورک ایٹ ہوم نہیں ہو سکا ۔۔ایسے کون لوگ ہیں اور کون سی لابی ہے جو ڈی این کے احکامات کو ہوا میں اڑا رہی ہے؟؟ صورتحال انتہائی گھمبیر ہے۔۔۔
آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔۔ ہم نیوزکے حوالے سے ابھی اور بہت کچھ ہے۔۔ بلاگ طوالت کا شکار ہورہا ہے اس لئے باقی باتیں اگلی بار۔۔ جب تک اپنا خیال رکھئے ۔۔ (علی عمران جونیئر)۔۔

