hum network or tankhuaho mein izafa

ہوٹل کا مالک ہم نیوز کا رپورٹر بن گیا۔۔

صحافت کا معیار اب کیا ہوگیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ ہم نیوز میں ایک ہوٹل چلانے والے کو رپورٹر بنادیاگیا ہے۔۔پپو کا کہنا ہے کہ  حیدرآباد میں ہم نیوز پر تجربات کا سلسلہ جاری ہے لانچنگ سے ابتک چار رپورٹر تبدیل کیے جاچکے ہیں اور اب ایک ایسے شخص کو رپورٹر رکھا گیا جسے صحافت کی الف ب کا بھی نہیں اگر یقین نہیں تو انتظامیہ اس سے کسی بھی ایشو پر ایک بیپر کرواکر سن لے۔۔ پپو کا کہنا ہے ہم نیوز میں  نمائندگی اب برائے فروخت ہوگئی ہے۔۔نمائندے یا تو فرمائشیں پوری کرتی ہیں ورنہ ادارے کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔۔پپو کے مطابق  حیدرآباد میں پہلے ایک رپورٹر رکھا گیا جو تنخواہ دار تھا ادارے نے مالی خسارے کا جواز بناکر اسے برطرف کردیا جس کے بعد ایک ایسے شخص کو رکھا گیا جو تین چارسال سے  صحافت سے کنارہ کشی کیے ہوئے تھا اس کے بعد ایک خاتون کر رکھا جو محض چند دن ہی چل سکی جو شہر میں خود کو ہم نیوز کا بیورو چیف بتاتی پھرتی  تھی  اور اب ایک ہوٹل والے کو رکھ لیا ہے۔۔پپو کے مطابق ہم صرف نشاندہی کرسکتے ہیں، ہم نیوز کی مرضی وہ درزی ، بھکاری، برگروالے یا بریانی والے کو صحافی بنادے۔  پپو کے مطابق ایسے نان پروفیشنل فیصلوں سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، مالکان کو چاہیئے ایسی چیزوں کا نوٹس لیں۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں