حریم شاہ نے فاروق ستارسے ملاقات کی کہانی سنادی۔۔

ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ فاروق ستار سے ایک ہوٹل میں ملیں، انہوں نے میرا نمبر ناٹی گرل کے نام سے سیو کر رکھا ہے۔نجی ٹی وی سماء سے گفتگو کرتے ہوئے حریم شاہ نے فاروق ستار کے ساتھ وائرل ہونے والی اپنی ویڈیو کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔ حریم شاہ نے بتایا کہ ان کی فاروق ستار سے ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی، فاروق ستار نے ہمارے لیے کمرہ بک کر رکھا تھا جہاں ہم نے چائے پی، مینگو کھائے اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ گپ شپ کی۔حریم شاہ کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار نے ان کا نمبر ناٹی گرل کے نام سے اپنے موبائل میں محفوظ کر رکھا ہے۔ فاروق ستار کے بقول میں بہت زیادہ شرارتیں کرتی ہوں اس لیے انہوں نے میرا یہ نام رکھا ہے۔حریم شاہ کے بقول فاروق ستار نے کہا کہ آج کل میرے مالی معاملات ٹھیک نہیں ہیں اور میری پارٹی ڈاؤن جارہی ہے، اس حوالے سے آپ کوئی مشورہ دیں، میں نے کہا کہ آپ مجھ سے ٹک ٹاک کے بارے میں پوچھیں تو میں بتاسکتی ہوں۔ “میں نے ان کے منہ پر کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ ایم کیو ایم اوپر آئے۔ جس پر فاروق ستار نے کہا کہ انہوں نے اپنی علیحدہ پارٹی بنا رکھی ہے۔ دوسری طرف  ٹک ٹاک سے شہرت پانے والی حریم شاہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ایپلی کیشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تو میں اس کی حمایت کروں گی۔ نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حریم شاہ نے کہا کہ اگرچہ ٹک ٹاک کی وجہ سے مجھے شہرت ملی ہے لیکن حکومت اگر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو ہر کسی کو اس کا احترام کرنا چاہئے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی ایپلی کیشنز کو استعمال کرنے سے پہلے لوگوں کو تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔دوسری جانب تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سیمابیہ طاہر کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کیلئے  پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کرائی گئی ہے۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ” صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ ایوان سمجھتا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک ویڈیو کے ذریعے مذاہب کا مذاق بنایا جارہا ہے، بے حیائی پھیلائی جارہی ہے، بے سروپا گفتگو بھی کی جارہی ہے اور نئی نسل کو تباہی کے دہانے کی طرف دکھیلا جارہا ہے، ٹک ٹاک ویڈیوز پر کسی قسم کی پابندی نہیں اور ان کے اداکاروں پر کسی قسم کی قانونی گرفت نہیں ہورہی ۔قرار داد کے متن کے مطابق یہ ایوان یہ بھی سمجھتا ہے کہ ٹک ٹاک ویڈیوز کو بلیک میلنگ کیلئے بھی استعمال کیا جارہا ہے اور کئی  افراد اس وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں ، لہٰذا صوبائی اسمبلی پنجاب کا ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ٹک ٹاک ویڈیوز پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں