بلاول بھٹو زرداری نے پریس کی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ وفاقی حکومت میڈیا کو دبانے اور ان کوششوں سے باز آ جائےجن کے ذریعے وہ قومی میڈیا کو ذاتی پروپیگنڈا مشین بنانے پر تلی ہوئی ہے تاکہ وہ اسے مخالفین پر جبر کے لیےایک آلے کے طور استعمال کرسکے،پی پی پی چیئرمین نے نشاندھی کی کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران پریس کی آزادی کے متعلق پاکستان کی سالانہ درجہ بندی میں مسلسل تنزلی آرہی ہے ،پیپلز پارٹی آزادیِ اظہارِ رائے کی ہر جدوجہد میں ہمیشہ صحافی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور رہے گی ، تحریک انصاف کی حکومت پہلے ہی دن سے میڈیا کی آزادی پر حملے کر رہی ہے،حکومتی ناقدین کے ٹی وی شوز زبردستی بند کردیئے گئے جبکہ دیگر کو نکال دیا گیا، جن پر ریاست مہربان ہے، ان کو اپوزیشن کی جانب سے عوام کی خدمت کیلئے اٹھائے گئے کام و کاوشوں کی برائی کرنے کیلئے پروپیگنڈہ کے ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی صحافی برادری کے ساتھ مل کر صحافت کی آزادی، صحافی برادری کے تحفظ اور ان کے پیشے کے تقدس کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔دریں اثنا پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت کی میڈیا پر غیر اعلانیہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں،وفاقی حکومت میڈیا پر پابندیاں لگانے کے بجائے آزادی کو یقینی بنائے،اس حکومت نے آزادی صحافت پر مختلف طریقوں سے پابندیاں عائد کی ہیں۔عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر اپنے ایک بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ صحافیوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ آمریت کا مقابلہ کیا،آزادی صحافت ہمارے منشور کا حصہ ہے،صحافیوں کے دکھ ہمارے دکھ ہیں، آزادی صحافت کے لئے ہم نے جیلیں کاٹی ہیں،صحافیوں نے ہمارے ساتھ جدوجہد کی ہے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ صحافیوں نے یہ حقوق جدوجہد کر کے حاصل کئے ہیں، حکومت کی میڈیا پر غیر اعلانیہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، آزاد جمہوری حکومتیں خود کو جوابدہ بنانے کے لئے میڈیا کو آزادی دیتی ہیں،سوال پوچھنے پر میڈیا کی تضحیک نہ کریں،اقتدار سے سوال کرنا ہی آزادی صحافت کی نشانی ہے،وفاقی حکومت میڈیا پر پابندیاں لگانے کے بجائے میڈیا کی آزادی کو یقینی بنائے۔
حکومت میڈیا کو نہ دبائے، بلاول بھٹوزرداری۔۔
Facebook Comments
