karachi ke reporter ke ghar par manshiyaati froshon ka hamla

جی ٹی وی میں لابنگ اور گروپنگ عروج پر۔۔

جی ٹی وی میں کارکنان دو ماہ سے سیلری کے منتظر ہیں۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ نیوز کے شعبے میں کارکنان کا مورال پستی کی جانب گامزن ہے، گروپنگ کا یہ حال ہے کہ  کنٹرولر بھی خود بے بس و لاچار محسوس کررہا ہے۔۔ جی ٹی وی کے تھنک ٹینک کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ این ایل ایز(نان لینئر ایڈیٹر) اور پی سی آر نیوز روم کے کنٹرول میں نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ نیوز روم کے ذمہ داران اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرسکتے۔۔ پپو نے یہ بھی بتایا ہے کہ جی ٹی وی کے ورکرز کو دو وقت کی چائے کی اجازت ہے لیکن چائے بھی ایسی بدبودار اور تعفن ذدہ ہوتی ہے کہ اکثریت پینے سے گریز کرتی ہے جس کی وجہ سے کچھ ورکرز اپنی جیب سے دودھ اور پتی لاتے ہیں لیکن جب سے نیا ذمہ دار آیا ہے اس نے آفس بوائے کو چائے بنانے سے منع کردیا ہے اور کہا ہے کہ جس نے چائے پینی ہے آفس کی پینی ہے، ورکرز اگر خود چائے بنانا چاہیں تو انہیں کچن میں داخلے کی اجازت تک نہیں، آفس بوائے خالص اجڈ لہجے میں کہتا ہے۔۔۔ تاقی صیب نے منا کیا ہے۔۔۔ پپو نے کراچی بیورو کی زبوں حالی کا بھی نقشہ کھینچا ہے، جہاں بیوروچیف کے لئے بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں، پپو کا کہنا ہے کہ بیورو میں ایک نئے رپورٹر کی آمد ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک رپورٹر کی نوکری بھی خطرے میں پڑ گئی ہے جسے کسی بھی وقت فارغ کیا جاسکتا ہے۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ جی ٹی وی میں لابنگ اور گروپنگ عروج پر ہے، کراچی بیورو کے معاملات کے فیصلے  ٹرائیکا کرتا ہے۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں