گرفتار ریڈیو ملازمین ضمانتوں پر رہا۔۔

سرکاری ریڈیو کے باہر برطرفی کیخلاف احتجاجی دھرنا دینے کی پاداش میں سیکرٹریٹ پولیس نے رات گئے متعدد ملازمین کو گرفتار کرلیا، تھانہ سیکرٹریٹ میں 6 مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج ،ایف آئی آر میں20 افراد کو نامزد کیاگیا،ایف آئی آر میں پولیس کے ساتھ مزاحمت، پولیس اہلکاروں کی وردی پھاڑنے، ایمپلی فائر ایکٹ، کارسرکارمیں مداخلت، غیرقانونی ہجوم اورشاہراہ دستور کو بلاک رکھنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا ریڈیو پاکستان کی سی بی اے کے عہدیداران سمیت 40 ملازمین کی گرفتاری کی مذمت کی گئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے یو ایس او کے جنرل سیکریٹری محمد اعجاز اور دیگر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت نے اب جمہوری ہونے کا دکھاوا کرنا بھی چھوڑ دیا ہے، پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر لگتا ہے اس پر بھی غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے نکالنا ظلم اور ان کے احتجاج کو طاقت سے روکنا جبر ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان کے برطرف ملازمین کو بلا تاخیر بحال اور گرفتار ملازمین کو فوراً رہا کیا جائے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اقتدار میں آ کر برطرف ملازمین کو مراعات کے ساتھ بحال کرے گی۔ دریں اثنا علاقہ مجسٹریٹ ملک امان نے احتجاج کے دوران گرفتارہونے والے ریڈیو پاکستان کے 20ملازمین کی ضمانت منظورکرلی۔۔وفاقی پولیس کی جانب سے گرفتارملازمین کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیاگیا،عدالت نے 5ہزارروپے فی کس مالیتی مچلکوں کے عوض تمام ملازمین کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں