جیو نیوز سے وابستہ صحافی ولی خان بابر پر گولی چلانے والا قاتل ساڑھے 9 سال بعد گرفتار کرلیا گیا۔سندھ کے وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ اور کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ولی خان بابر کو 13 جنوری 2011 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں قتل کیا گیا تھا۔ شہید صحافی پر گولی کامران ذیشان عرف شانی نے چلائی تھی جسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ولی خان بابر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہ ایم کیو ایم کے خلاف ایک سٹوری پر کام کر رہے تھے جس کی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا۔کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ کامران ذیشان عرف شانی گلشن معمار میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا، اس نے 2008 میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی تھی، اس واردات کا ماسٹر مائنڈ فیصل موٹا تھا جبکہ کامران ذیشان عرف شانی نے صحافی پر گولی چلائی۔کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ولی بابر کو 13 جنوری 2011 میں لیاقت آباد مارکیٹ میں قتل کیا گیا، اس کیس میں 11 ملزمان تھے جن میں سے 4 کو جیل ہوچکی ہے، فیصل موٹا کو 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا، فیصل موٹا پانچ ٹارگٹ کلر ٹیموں کا فل انچارج تھا اس کو موت کی سزا مل چکی ہے، ملزم کامران عرف ذیشان عرف شانی نے ولی بابر کو گولیاں ماریں، اور اسے بھی عدالت پھانسی کی سزا سنا چکی ہے، قاتل کامران مفرور تھا، جسے حساس ادروں اور ایس آئی یو کی مشترکہ کاروائی میں گرفتار کیا گیا۔غلامی نبی میمن نے بتایا کہ کامران عرف ذیشان عرف شانی نے 2008 میں ایم کیو ایم لندن میں شمولیت اختیار کی تھی، ملزم کو ساوتھ افریقہ سیٹ اپ سے قتل کی ہدایت ملتی تھیں، کامران عرف ذیشان عرف شانی نے ابتدائی بیان میں ولی خان بابر سمیت 4 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے، اور بتایا ہے کہ ولی خان بابر کو اے این پی کی وجہ سے مارا گیا، اور اس کو 5 ٹیموں نے مل کر نشانہ بنایا تھا، قتل کے بعد ملزم پہلے لانڈھی میں رہا اور 5 سال نائن زیرو میں چھپا رہا، اور اب ملزم اپنی فیملی کے ساتھ گلشن معمار میں رہائش پذیر تھا، ولی خان بابر قتل کیس میں 5 گواہوں کو بھی وقتاً فوقتاً قتل کردیا گیا تھا، کیس کے آخری گواہ حیدر علی کو بھی 2012 میں قتل کردیا گیا تھا۔کراچی پولیس حکام کے مطابق ولی بابر کیس کے ابتک پانچ گواہان کو موت کے گھاٹ اتار جاچکا ہے، تمام گواہان کو مارنے کے احکامات ایم کیوایم لندن جنوبی افریقا سیٹ اپ سے ملا کرتے تھے۔

