ترک گیمز آف تھرونز کہلانے والے ڈرامے ارطغرل غازی نے نوجوان کشمیریوں میں آزادی کی نئی روح پھونک دی۔ متعدد والدین اپنے بچوں کا نام ارطغرل رکھنے لگے۔تفصیلات کے مطابق ڈرامہ ارطغرل غازی ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی ہے اور ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ترک خبر رساں ادارے ’اناطولیہ‘ کے مطابق ڈرامہ ارطغرل غازی نے نوجوان کشمیریوں میں آزادی کی نئی روح پھونک دی ہے۔ اس ڈرامے کو مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر کے باوجود دیکھا جا رہا ہے۔بزنس کے طالب علم 27 سالہ ابو بکر کا ’اناطولیہ ایجنسی‘ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس ڈرامے نے ہم میں امید پیدا کر دی ہے، ہم پر امید ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہماری مشکلات ختم ہو جائینگی۔ترک خبر رساں ادارے نے ماہرین سے بات کی تو ان میں سے ایک نور محمد بابا کا کہنا تھا کہ ڈرامے میں دکھائے گئے مناظر کشمیریوں سے ملتے جلتے ہیں۔ اس ڈرامے کے مشہور ہونے کی تین وجوہات ہیں،بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلی وجہ ڈرامہ سیریز کا مواد کشمیریوں سے ملتا جلتا ہے، ثقافتی ہم آہنگی دوسری وجہ جبکہ تیسری وجہ اسلامی اقدار ہے۔یاد رہے کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے جابرانہ فیصلہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا تھا جس کے بعد چار ماہ بعد مقبوضہ وادی میں دسمبر 2019ء کو ڈرامہ نشر ہونا شروع ہوا۔ البتہ قابض حکومت نے کشمیریوں کو انٹرنیٹ سے محروم رکھا تاہم اس کے باوجود مقبوضہ وادی کے شہریوں کی بڑی تعداد نے انٹرنیٹ کی ٹو جی سروس میں بھی ڈراموں کو ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھا۔خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں یہ اس طرح مشہور ہو گیا ہے کہ مسلمان والدین اپنے بچوں کا نام بھی ارطغرل غازی کے نام سے رکھ رہے ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے والدین نے اپنے بیٹے کا نام ارطغرل رکھا تھا، یہ نام انہوں نے اپنی 8 سالہ بیٹی کی فرمائش پر رکھا تھا۔اناطولیہ ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بچے کے والد نے کہا کہ میری بیٹی ڈرامہ کی دلدادہ ہے، جب میری اہلیہ امید سے تھی تو میری اہلیہ نازش اکبر نے کہا تھا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کا نام ارطغرل رکھا جائے گا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق بچوں کے ڈاکٹر سہیل نائیک کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے دیکھنے کو مل رہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کا نام ارطغرل سے رکھ رہے ہیں۔

