وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ ہماری اخلاقیات کس حد تک گر گئی ہیں کہ لفافے کہہ رہے ہیں کہ جعلی لائسنس کا معاملہ چھپانا چائیے تھا تا کہ ائیر لائن کا آپریشن معطل نہ ہوتا، ماشااللّہ،مطلب جھوٹ بولوبھلےلوگوں کی جانیں جائیں،اسکےذمہ داروہ لوگ ہیں جو یہ سب گند کر کے گئے، عجیب منطق ہے جس نے جھوٹ پکڑا وہ ذمہ دار۔۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ ہماری اخلاقیات کس حد تک گر گئی ہیں کہ لفافے کہہ رہے ہیں کہ جعلی لائسنس کا معاملہ چھپانا چائیے تھا تا کہ ائیر لائن کا آپریشن معطل نہ ہوتا، ماشااللّہ، مطلب جھوٹ بولوبھلےلوگوں کی جانیں جائیں،اسکےذمہ داروہ لوگ ہیں جو یہ سب گند کر کے گئے، عجیب منطق ہے جس نے جھوٹ پکڑا وہ ذمہ دار.انہوں نے کہا کہ “لفافی صاحب” تباہ تو اُنھوں نے کیا جنھوں نے اپنے اپنے دور حکومت میں جعلی لائسنس پر پائلٹ بھرتی کیے اور آپ جیسےجعلی تجزیہ کار مارکیٹ میں لائے،یہ آپ کے دوستوں کا کام ہے جنہوں نے جعلی لائسنس ، جعلی تجزیہ کار،جعلی قطری خط ، جعلی اکاؤنٹس ، جعلی بھینسیں ، جعلی وصیت پر چئیرمین شپ حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ آج کامران خان صاحب کہ پروگرام میں ن لیگ کے گھر کےصحافی نےفرمایا، جتنابرا سلوک 2018کہ الیکشن میں اپوزیشن کہ ساتھ ہواوہ پہلے کبھی نہیں ہوا جس پر کامران خان نے کہا کہ 1977 میں تو بہت برا ہوا تھا، آپ ایسا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟ معتبر صحافی کا جواب،جی تب میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ڈاکٹر شہباز گل نے ن لیگی رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اچھا جیسے آپ نے معیشت کے حقیقی اعدادوشمار کو چھپایا اور پوری دنیا کو بے وقوف بنایا، آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی جعلی پائلٹ چھپاتے؟ یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں،جعلی اکاؤنٹ سے لے کر لندن سے منی لانڈرنگ کرنے کے بیان حلفی، اب آپ جتنا جھوٹ انسان کیسے بولے؟حقیقت سب کو معلوم ہونی چاہئیے۔۔۔.

