میڈیا ہاوسز (اخبارات و چینلز) میں ڈیسک پر کام کرنے والوں کے ایکری ڈیشن کارڈز بننے میں جان بوجھ کر رکاوٹ پیدا کی گئی ہے اوراس مکروہ کام میں صحافی برادری کے کچھ لوگ ملوث ہیں ۔۔ اس بات کا انکشاف محکمہ اطلاعات کے دو اہم افسران نے چیئرمین ایکری ڈیشن کارڈ کمیٹی کیڈیا کی سربراہی میں ایک وفد سے ملاقات میں کیا۔ ملاقات میں ڈیسک پر کام کرنے والے صحافیوں کے ایکریڈیشن کارڈ نہ بننے اور اس میں تاخیر پر بات چیت کی گئی۔۔محکمہ اطلاعات کے مذکورہ دونوں افسران کا کہنا تھا کہ وہ پرانے معاملات سے لاعلم ہیں لیکن جن افراد کے فارم جمع ہوئے تھے اسکروٹنی کے بعد وہ کارڈ بنادیے گئے ہیں اور کچھ لوگوں نے کارڈ وصول کرلے ہیں جنہیں کارڈ نہیں ملے وہ محکمہ اطلاعات آکر معلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر شخص اپنا کارڈ خود جاکر وصول کرے اور اگر کسی کا کارڈ نہیں بنا تو وہ متعلقہ دونوں افسران سے پوچھے کہ اس کا کارڈ کیوں نہیں بنا ۔ اس ملاقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کچھ اداروں کے پورے کے پورے فارم ہی غائب کردئے گئے ہیں جس کا کوئی تسلی بخش جواب دونوں افسران کے پاس نہیں تھا ۔ ان دونوں افسران کا یہی کہنا تھا کہ چونکہ انہیں ابھی حال ہی میں یہ ذمے داری ملی ہے لہذا جو فارم پہلے جمع ہوئے تھے ان سے متعلق وہ کچھ نہیں جانتے ۔ لگتا یہی ہے کہ مختلف اداروں کے ڈیسک پر کام کرنے والے ساتھیوں کی پوری کی پوری فائل ہی غائب کردی گئی ہے اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے ۔ اس بات کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ جب چیئرمین ایکریڈیشن کارڈ کمیٹی نے اپنے ادارے آج ٹی وی کے 15ساتھیوں کے کارڈ سے متعلق معلوم کیا اور اس کے اسٹیٹس کا پوچھا تو بتایا گیا کہ آج ٹی وی کے ڈیسک پر کام کرنے والے ان 15 افراد کا کوئی فارم جمع نہیں ہواحالانکہ یہ فارم ایک سینئر ساتھی نے فروری میں ایچ آر کے تصدیقی لیٹر کے ساتھ ایک فائل کے ساتھ جمع کروائے تھے جو اب محکمہ اطلاعات کے ریکارڈ سے غائب ہے۔۔۔۔ محکمہ اطلاعات کے افسران سے دو بار ملاقات کرنے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ڈیسک پر کام کرنے والے صحافیوں کے کارڈ بننے میں جان بوجھ کر رکاوٹ پیدا کی گئی ہے اوراس مکروہ کام میں ہماری ہی برادری کے کچھ لوگ ملوث ہیں ۔ چیئرمین ایکری ڈیشن کارڈ کمیٹی کیڈیا کے مطابق آئندہ ڈیسک پر کام کرنے والے تمام صحافیوں کے ایکریڈیشن کارڈ کیڈیا کے پلیٹ فارم سے ہی جمع کروائے جائیں گے ۔ رواں سال جن افراد نے اپنے اداروں کے توسط سے جو فارم جمع کرائے ہیں ان کا اسٹیٹس معلوم کرنے کے لیے تمام اداروں کے وہ افراد انفرادی طور پر یا اکٹھے ہوکر محکمہ اطلاعات کے دفتر جائیں اور متعلقہ افسران سے پوچھیں اور سوال کریں کہ ان کا کارڈ کیوں نہ بنا اور اگر بنا ہے تو وہ انہیں دیا جائے۔۔

