ڈان نیوز کا رپورٹر پولیس گردی کا شکار۔۔۔ 74

ڈان نیوز کا رپورٹر پولیس گردی کا شکار۔۔۔

ڈان نیوز کے رپورٹر یاور عباس کو آیت نور کیس اجاگر کرنے اور پولیس کی ناقص تفتیش کی نشاندہی کرنے پر ہری پور سٹی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر ہارون خان نے ایک سادہ کاغذ پر نوٹس ارسال کیا ہے ۔ نوٹس میں صرف تاریخ درج ہے اور اس کے علاوہ دستخط ، ڈائری نمبر ، ان ورڈ اور آوٹ ورڈ نمبر تک درج نہیں ہے ۔ نوٹس میں یاور عباس کی تقریر کا ذکر ہے کہ جب یاور عباس نے کہیں کوئی تقریر نہیں کی ۔ نوٹس میں کاپیوں کے لف ہونے کا ذکر ہے جب کہ کوئی کاپی لف نہیں تھی ۔ نوٹس میں یاور عباس کو مخاطب کر کے لکھا گیا ہے کہ " آپ مسلسل سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف عام عوام کو اکسا رہے ہیں ، اور محکمہ پولیس کی عوام عوام سے تذلیل کرا رہے ہیں ، آپ دوران تقریری انتہائی غیر اخلاقی اور غیر شائستگی کے ساتھ الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ۔ جس سے محکمہ پولیس کا مورال ڈاؤن ہو رہا ہے ۔آپ کو اگر پولیس میں کسی سے کوئی عذر یا کوئی ذاتی رنجش ہے تو اس کا ایک فورم بنا ہوا ہے ۔ نہ ہی کسی فورم کو استعمال کر رہے ہیں ، نہ ہی آپ نے کسی افسر کو اپنے موقف کے بارے میں آگاہ کیا ہے ۔ آپ کوئی مستند رپورٹر ہیں نہ ہی آپ کے پاس کسی قسم کی صحافت ڈگری ہے ۔پولیس نے نوٹس میں مزید لکھا ہے کہ "آپ کی تمام سوشل میڈیا پوسٹس کو نوٹ کر لیا گیا ہے اور ان کی کاپیاں بھی منسلک ہیں ۔ آپ کے ان اقدامات پر کیوں نہ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے این سی سی آئی اے کو رپورٹ بھیجوائی جائے ۔ آپ کو بذریعہ نوٹس مطلعہ کیا جا رہا ہے اندر تین یوم کے تھانہ سٹی ایس ایچ او کے روبرو پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں ۔ بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور بعد میں کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں