ڈان نیوز کے بیورو چیف اور سینئر صحافی علی اکبر نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے ذریعے مبینہ طور پر ان کی جعلی ویڈیوز اور آوازیں تیار کرکے سوشل میڈیا پر پھیلانے کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کرلیا ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔سینئر صحافی علی اکبر نے این سی سی آئی اے کو جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ نامعلوم افراد مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان سے منسوب جعلی ویڈیوز اور آوازیں تیار کررہے ہیں، جن کے ذریعے سرکاری افسران اور سیاسی شخصیات کے خلاف الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق ان سرگرمیوں سے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ اور صحافتی اعتبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ 12 اکتوبر 2026 کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک اکاؤنٹ سے ویڈیو جاری کی گئی، جس میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے خلاف الزامات عائد کیے گئے۔ علی اکبر کے مطابق اس ویڈیو میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایسی تصاویر اور آواز استعمال کی گئی جو بظاہر ان سے منسوب تھیں، حالانکہ ان کا اس مواد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے ہی روز 13 اکتوبر کو اسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک اور ویڈیو جاری کی گئی جس میں خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کے خلاف الزامات عائد کیے گئے۔ اس ویڈیو میں بھی مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مناظر اور آواز کو ان سے منسوب کیا گیا۔
علی اکبر نے اپنی درخواست میں کہا کہ وہ ایک سینئر اور معروف صحافی ہیں اور ان کی شناخت اور آواز کا اس انداز میں مبینہ غلط استعمال ان کی پیشہ ورانہ شہرت، ساکھ اور عوامی اعتماد کو متاثر کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے نہ صرف ان کی صحافتی حیثیت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ انہیں اپنی ذاتی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش لاحق ہے۔انہوں نے این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی مکمل اور جامع تحقیقات کی جائیں، جعلی مواد تیار کرنے اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلانے والے افراد کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
19