عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں 159 صحافی بھی متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 3 صحافی انتقال کر گئے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی کورونا ریسکیو کمیٹی نے کورونا سے متعلق پہلی ملک گیر رپورٹ جاری کردی۔ پپو نے پی ایف یوجے کی ریسکیو کمیٹی کی رپورٹ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ، اس رپورٹ میں ڈیٹا نامکمل ہے۔۔ رپورٹ میں کورونا سے تین صحافیوں کے انتقال کا بتایا گیا ہے، جب کہ کورونا سے اب تک چار صحافی خالق حقیقی سے جاملے۔۔ رپورٹ کے مطابق جاں ہونے والے ایک صحافی کا تعلق ملتان، دو کا سکھر ہے۔۔ پپو کےمطابق ایسا نہیں ہے۔۔ ایک صحافی کا تعلق ملتان، ایک کا سکھر، ایک کا شکارپور اور ایک کا اسلام آباد سے ہے۔۔ رپورٹ میں اسلام آباد میں کورونا سے انتقال کرجانے والے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے سابق بیوروچیف کا ذکر ہی نہیں کیاگیا۔۔ حالانکہ سب سے پہلے انہی کا انتقال ہوا تھا۔۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا سے متاثر 69 صحافی صحتیاب ہوچکے ہیں۔پی ایف یو جے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ 84 صحافی لاہور میں کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ کراچی میں 9 اور راولپنڈی و اسلام آباد میں 24 صحافی کورونا سے متاثر ہیں۔پپو کے مطابق کراچی میں تو صرف دس سے زائد جیونیوز ہیڈ آفس میں کیسز ہوئے ہیں۔۔ اسی طرح پپو کا کہناہے کہ کوئٹہ میں سترہ نہیں بلکہ پچپن میڈیا ورکرز کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔۔ آزاد کشمیر کے حوالے سے رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ وہاں کوئی کیس نہیں ہوا حالانکہ عمران جونیئر ڈاٹ کام پر اے آر وائی کے مظفرآباد کے رپورٹر اور کیمرہ مین کو کورونا ہونے کی خبر رپورٹ ہوچکی ہے۔۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پشاور میں 12، کوئٹہ میں 17، ملتان میں 5 صحافیوں کے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں۔اسی طرح سکھر میں 6، گوجرانوالہ میں 2، حیدر آباد میں ایک صحافی کورونا سے متاثر ہوا ہے۔پی ایف یو جے کی کورونا ریسکیو کمیٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی مہتو کا کہنا ہے کہ پنجاب میں متاثرہ صحافیوں کا ڈیٹا حکومت کے حوالے کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں متاثرہ صحافیوں کو حکومت کی جانب سے فی کس ایک لاکھ روپے امداد ملے گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیگر صوبائی حکومتیں بھی متاثرہ صحافیوں سے مالی تعاون کریں۔پپو نے پی ایف یوجے کی کورونا ریسکیو کمیٹی کے چیئرمین سے اپیل کی ہے کہ براہ کرم اپنا ڈیٹا اپ ڈیٹ کریں اور ذاتی طور پر اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف شہروں سے ڈیٹا جمع کریں۔۔ کیوں کہ آپ کی رپورٹ پر ہی متاثرین کو تھوڑی بہت امداد ملنی ہے۔۔ شاید کسی کا بھلا ہوجائے۔۔
کورونا، میڈیا ورکرز اور پی ایف یوجے کی بے خبری۔۔
Facebook Comments
