پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی اسد شہزاد (فرضی نام) ایک ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں اور گزشتہ کچھ عرصہ سے مختلف قرنطینہ مراکز میں داخل زائرین کی رپورٹنگ کر رہے ہیں، مختلف اسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں اور عوام کو کورونا وائرس سے بچائو اور حفاظتی اقدامات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ اور اب وہ بیمار پڑ گئے ہیں۔ٹیسٹ کرایا تو معلوم ہوا کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کی عمر 41؍ برس ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی بھی صحافی ہیں اور ان کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ جنگ کی رپورٹ کے مطابق چند روز قبل ٹیسٹ کرانے سے قبل اسد اپنی بہن سے ملنے راولپنڈی گئے تھے، ان کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔مشترکہ خاندانی نظام میں، انفیکشن ایک فرد سے دوسرے تک پہنچا۔ اب صرف اسد کی والدہ اور ایک اور بھائی بچ گئے ہیں، گھر کے باقی 15؍ افراد کورونا متاثرین ہیں۔صحافیوں کے حفاظت اور آزادی کیلئے سرگرم تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے مطابق، صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کورونا سے متاثر ہو چکی ہے۔ ملک بھر سے 54؍ صحافی کورونا سے متاثر ہیں، ان کی زیادہ تر تعداد کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہے جس کے بعد پشاور اور اس کے بعد لاہور کا نمبر آتا ہے۔ یہ 54؍ وہ صحافی ہیں جن کی رپورٹس مثبت آ چکی ہیں، باقی صحافیوں کی رپورٹ آنا باقی ہے۔جن لوگوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے ان میں سے 44؍ صحافی ہیں جبکہ باقی 10؍ کا تعلق اپنے ادارے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی یا ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ سے ہے یا وہ ڈرائیورز ہیں۔ اس طرح صحافیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے ان کی حفاظت کے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔الیکٹرونک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن (اے ای ایم ای این ڈی) نے نیوز رومز میں حفاظتی انتظامات پر عملدرآمد کیلئے ایک پروٹوکول مرتب کیا تھا اور فیلڈ رپورٹنگ کیلئے رہنما اصول بھی تیار کیے گئے تھے۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ یہ ہدایات زیادہ تر کاغذی صورت میں ہی رہیں اور بہت کم ہی کوشش کی گئی کہ ان پر عملدرآمد کیا جا سکے۔کورونا سے متاثرہ ایک صحافی کا کہنا ہے کہ دفتر میں ماسک فراہم نہیں کیے جاتے تھے، ہمیں خود خریدنا پڑتے تھے۔ اے ای ایم ای این ڈی سے وابستہ ایک میڈیا ایگزیکٹو کاکہنا تھا کہ واقعی مسائل ہیں لیکن اس کے ذمہ دار میڈیا ورکرز اور نیوز روم کے مینیجرز ہیں۔
کورونا کے وار، 54 صحافی مہلک وائرس کا شکار۔۔
Facebook Comments
