اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکاری ٹی وی کے چیئرمین، ایم ڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دور ان وزارت اطلاعات اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے وکیل کو تفصیلی جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے سرکاری ٹی وی سے متعلق تمام کیسز یکجا کرکے سماعت 21 اگست تک ملتوی کردی۔ منگل کو کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی بنچ نے کی۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ ارشد خان نے چیئرمین سرکاری ٹی وی سی بورڈ سے استعفیٰ دیا اور انہیں قائم مقام ایم ڈی کا چارج دیا گیا، حکومت نے پہلے ہی ذہن بنا رکھا تھا کہ اس شخص کو ایم ڈی بنانا ہے جس کیلئے رولز فالو نہیں کیے گئے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عطا الحق قاسمی کیس میں سپریم کورٹ نے سرکاری ٹی وی میں تعیناتی کیلئے گائیڈ لائنز طے کر دی تھیں، تعیناتی سے قبل ان کیلئے لاکھوں روپے کی تنخواہ اور مراعات طے ہوچکی تھیں۔وکیل سرکاری ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کہا کہ تعیناتیوں سے متعلق سمریز اور سیکرٹ ڈاکومنٹس انکے پاس ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ حکومت کو دیکھنا چاہئے کہ کیا سیکورٹی والے سو رہے ہوتے ہیں کہ یہ خفیہ ریکارڈ اس طرح نکل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ سیکرٹری کا کوئی کردار نہیں کہ انکے میٹنگ منٹس کس طرح نکالے جا رہے ہیں؟۔ وکیل نے کہا کہ نہ صرف سرکاری ٹی وی بورڈ کے چیئرمین ارشد خان بلکہ دیگر بورڈ ممبرز کی تقرری میں بھی رولز کی خلاف ورزی کی گئی۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بورڈ ممبر زہیر خالق کی عمر 62سال ہے جو چیئرمین ایچ آر کمیٹی اور یو کے نیشنل ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بورڈ ممبر میاں یوسف صلاح الدین کی عمر 69 سال،کوالیفکیشن گریجویشن کی بجائے میٹرک ہے۔ عدالت نے کہاکہ یہ متنازع حقائق ہیں، انکی تصدیق کے لئے سرکاری ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے وکیل تفصیلی شق وار جواب داخل کریں ۔

