نامور گلوکارہ صنم ماروی بچوں کو دیکھنے کے لیے کمرہ عدالت کے باہر روتی رہیں۔لاہور میں گلوکارہ صنم ماروی گارڈین کورٹ پہنچیں جہاں اُن کے سابق شوہر بچوں کے ہمراہ پیش نہیں ہوئے، وہ بچوں کو دیکھنے کے لیے کمرہ عدالت کے باہر روتی رہیں۔صنم ماروی نے اپنے بیان میں کہا کہ اُنہیں بچوں کے بغیر راتوں کو نیند نہیں آتی، ایک ماں بچوں کے بغیر کیسے رہتی ہے کوئی اور اندازہ نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ 6 ماہ سے سابق شوہر نے زبردستی بچوں کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔واضح رہے کہ گلوکارہ صنم ماروی نے بچوں کی حوالگی کے لیے گارڈین کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔گلوکارہ صنم ماروی کا کہنا ہے کہ سابق شوہر نے بچوں کو غیر قانونی طور پر قید میں رکھا ہوا ہے۔ چھ ماہ سے بچوں کے بغیر راتوں کو نیند نہیں آتی۔ گلوکارہ بچوں کے غم میں آبدیدہ ہوگئی۔گلوکارہ کا کہناہ ے کہ 3 بچوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، سابق شوہر نے تین بچوں کو زبردستی اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ بچوں کے بغیر راتوں کو نیند نہیں آتی۔گلوکارہ نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق کمسن بچوں کی پرورش کا ماں کا حق ہے، سابق شوہر بے روزگار ہے وہ بچوں کی بہتر پروش نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ سابق شوہر بچوں پر تشدد کرتا ہو گا۔عدالت بچوں کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے۔یاد رہے کہ گھریلو تنازع کے بعد صنم ماروی نے جنوری 2020 میں شوہر حامد علی سے خلع کیا تھا۔
sanam
