کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں اعلی عدالت نے قرار دیا ہے کہ آزادی اظہار رائے یا آزادی صحافت کو روکنا یا اسے محدود کرنا ناقابل قبول ہے، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام ارکان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کے یو جے پہلے ہی یہ موقف رکھتی ہے کہ ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے سے ہی آئین میں موجود دیگر بنیادی حقوق کی ضمانت ملتی ہے ملک کی اعلی عدلیہ نے اپنے فیصلے سے اس پر مہر ثبت کردی ہے موجودہ حالات میں جب میڈیا کو مختلف قسم کے دباو کا سامنا ہے مقدمات، نوٹسز اور اغوا کے ذریعے صحافیوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اعلی عدالت کا یہ فیصلہ ملک میں آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کے حوالے سے نئی راہیں متعین کرے گا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی رانا محمد ارشد کی درخواست پر اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ معاشرے میں اگر پریس آزاد نہ ہو تو پسماندہ طبقات کو سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس سے اشرافیہ ناقابل احتساب اور طاقتور ہوجاتی ہے کے یو جے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت کا اپنے فیصلے میں یہ واضح کرنا خوش آئند ہے کہ ریاست اور اس کے نمائندوں کو تنقیدی رپورٹنگ، کسی آواز کو دبانے یا اختلاف رائے پر انتقامی کارروائی کیلئے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے یہ فیصلہ صحافی رانا محمد ارشد کی اس درخواست پر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایف آئی اے نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کیا اور ایسا اس لیے کیا گیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پرریاستی افسران پر تنقید کی تھی۔ یاد رہے کہ کراچی میں بھی ایف آئی اے سائبر کرائم کی جانب سے گذشتہ دنوں کے یو جے کے رکن اور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری طحہ عبیدی اور نوید کمال کو نوٹسز جاری کرکے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ کے یو جے کی سوشل میڈیا کمیٹی کے رکن بلال فاروقی کیخلاف پولیس نے سوشل میڈیا پر تنقید کرنے پر باقاعدہ مقدمہ درج کرلیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایف آئی اے کے بے پناہ اختیارات کا غلط استعمال صحافتی ذمہ داریاں انجام دینے والوں سے انتقام کے تاثر کو تقویت دیتا ہے ایف آئی اے حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی کارروائی بدنیتی پر مبنی یا اختیارات سے متجاوز نہ ہو آزاد اور پیشہ ور صحافی کی خبریں ہمیشہ تنقیدی ہوتی ہیں یا ریاستی ادارے یا ارباب اختیار انہیں تنقید سمجھتے ہیں عوام کو اطلاعات پہنچانے والے رپورٹرز کو انتقامی کارروائی کا خوف یا خدشہ ناقابل برداشت ہے۔

