ائرویز میڈیا گروپ کیلئے خطرے کی گھنٹی ۔۔۔۔ 29

ائرویز میڈیا گروپ کیلئے خطرے کی گھنٹی ۔۔۔۔

سینئر صحافی اور کیمرے قلم کے مزدور ذوالفقار علی ببر کے 21 لاکھ 85 ہزار 780 روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر ایئر ویز میڈیا گروپ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف ریکوری کی کارروائی آگے بڑھ گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 82 کے تحت کمپنی کے مالک/چیف ایگزیکٹو آفیسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 30 روز کے اندر واجبات اور متعلقہ اخراجات ادا کرنے کا کہا ہے۔۔۔ اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد، ضلع شرقی کراچی کی جانب سے 5 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے دفعہ 82 کے نوٹس میں ایئر ویز میڈیا گروپ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے مالک/چیف ایگزیکٹو آفیسر سے 21 لاکھ 85 ہزار 780 روپے کی ادائیگی کا کہا گیا ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اس سے قبل 10 ستمبر 2026 کو سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 81 کے تحت بھی ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے باوجود مقررہ مدت میں رقم ادا نہیں کی گئی۔
ذوالفقار علی ببر کے مطابق واجبات کی ادائیگی کے معاملے پر کمپنی کو اس سے پہلے بھی متعلقہ فورم پر طلب کیا گیا اور ادائیگی کے لیے کہا گیا، لیکن ان کے بقول کمپنی کی جانب سے مختلف حیلے بہانے اور تاخیری حربے اختیار کیے جاتے رہے اور واجبات ادا نہیں کیے گئے۔ ان کا مؤقف ہے کہ قانونی کارروائی اور فیصلے کے باوجود اپنی محنت کی کمائی کے حصول کے لیے انہیں مسلسل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق ویجز اینڈ کمپنسیشن کمشنر کے دفتر نے 15 جون 2026 کو ریکوری کے سلسلے میں متعلقہ حکام کو خط ارسال کیا تھا۔ اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے دفعہ 81 کے تحت کمپنی کو ادائیگی کا نوٹس جاری کیا۔ جب اس نوٹس کے باوجود رقم ادا نہیں ہوئی تو 5 اکتوبر کو دفعہ 82 کے تحت مزید کارروائی کا نوٹس جاری کیا گیا۔
دفعہ 81 کے نوٹس میں کمپنی کو نوٹس کی وصولی سے 15 دن کے اندر ادائیگی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جبکہ دفعہ 82 کے نوٹس میں وصولی کی تاریخ سے 30 دن کے اندر 21 لاکھ 85 ہزار 780 روپے اور متعلقہ اخراجات ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دفعہ 82 کے بعد گرفتاری، جائیداد کی ضبطگی اور بینک اکاؤنٹس سیز ہونے کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 82 کے تحت مقررہ مدت میں واجبات ادا نہ کیے جانے کی صورت میں نادہندہ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوسکتے ہیں اور اسے متعلقہ ریونیو افسر کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ قانون کے مطابق نادہندہ کی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جاسکتی ہے، جبکہ واجبات کی وصولی کے لیے بینک اکاؤنٹس سیز کرنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ اگر کمپنی مقررہ مدت میں 21 لاکھ 85 ہزار 780 روپے اور متعلقہ اخراجات ادا نہیں کرتی تو متعلقہ حکام گرفتاری، جائیداد کی ضبطگی اور بینک اکاؤنٹس سیز کرنے سمیت دیگر قانونی اقدامات کے ذریعے ریکوری کا عمل آگے بڑھا سکتے ہیں۔
ذوالفقار علی ببر کا کہنا ہے کہ انہوں نے صحافت کے شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیں اور اب وہ صرف اپنے قانونی طور پر مقرر شدہ واجبات کی ادائیگی چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ فورم پر باقاعدہ سماعت اور فیصلے کے بعد بھی رقم نہ ملنا ان کے لیے مالی مشکلات اور مسلسل قانونی پیروی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب کسی کارکن کے واجبات قانونی کارروائی کے ذریعے طے ہو جائیں تو متعلقہ ادارے کو ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اب جبکہ اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد کی جانب سے دفعہ 81 کے بعد دفعہ 82 کا نوٹس بھی جاری ہو چکا ہے، اس معاملے میں آئندہ پیش رفت اور واجبات کی وصولی پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں