پپو نے انکشاف کیا ہے کہ سوا سو سے زائد ٹیسٹ ہونے کے بعد ساٹھ سے زائد کورونا پازیٹیو کیس سامنے آنے کے باوجود اے آر وائی نیوز ہیڈ آفس میں کورونا پازیٹیو ورکرز سے کام لیا گیا، اتوار کے روز ایوننگ شفٹ میں کئی کورونا پازیٹیو اپنے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔۔پپو نے مزید انکشاف کیا ہے کہ تمام شعبہ جات کے ہیڈز کو زبانی احکامات ملے تھے کہ وہ تمام کورونا پازیٹیو کو فون کال کرکے آفس طلب کریں اور ان سے کام لیں۔۔ اتوار کے روز ساٹھ سے زائد کورونامتاثرین سامنے آنے کے باوجود دفتر میں روز مرہ کا کام جاری رہا، کسی بھی ایس اوپیز پر عمل درآمد نہیں کرایا جارہا، ورکرز کو ڈیوٹی دینے پر مجبور کیاجارہا ہے، کورونا سے متعلق حفاظتی سامان بھی دفتر میں مہیا نہیں کیاگیا۔۔پپو نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافتی تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں، انتظامیہ سے رابطہ کرے، ان پر دباؤ ڈالے اور ورکرز اور ان کی فیملیز کے تحفظ کو یقینی بنائے۔۔دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے اے اروائی نیوز چینل کراچی میں کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت اطلاعات و نشریات حکومت سندھ اور اے آر وائی مالکان واتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ادارے میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی جائے اور کورونا مثبت آنے والے صحافیوں ومیڈیا ورکرز کو فوری طور پر علاج معالجے کی سہولت اور طبی امداد فراہم کی جائے۔کے یو جے دستور کے صدد ریاض احمد ساگر اور سیکرٹری محمد عارف خان نے اپنے بیان میں حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی دیگر صوبائی حکومتوں کی طرح سندھ میں بھی فوری طور پر کورونا متاثر صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئیے امدادی پیکیچ کا اعلان کرے اور فوری طور پر اس کا با ضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کرے کے یو جے دستور نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت میڈیا ہاؤسز میں کورونا ایس اوپیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے انسپکٹرز تعینات کرے جو دیگر انڈسٹریز کی طرح میڈیا انڈسٹریز میں بھی سر پرائز وزٹ کرے۔
اے آر وائی میں کورونا پازیٹیو کام میں مصروف۔۔
Facebook Comments
